1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چینی اعلیٰ سفارت کار اور آنگ سان سوچی کی مجوزہ ملاقات

چین کے اعلیٰ سفارت کار دائی بِنگ گُواو (Dai Bingguo) اگلے ہفتے کے دوران اپنے اتحادی ملک میانمار کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اس دورے سے قبل چینی سفیر نے میانمار کی نوبل انعام یافتہ خاتون سیاستدان سے ملاقات کی ہے۔

default

آنگ سان سوچی

میانمار میں تعینات چین کے سفیر Li Junhua نے خاتون سیاستدان آنگ سان سوچی سے ملاقات کی ہے۔ چین کے کسی بھی سفارت کار کی گزشتہ دو دہائیوں میں نوبل انعام یافتہ سیاستدان سے پہلی ملاقات کی ہے۔ میانمار کی جمہوریت نواز لیڈر کے ساتھ چینی حکومت کا برسوں بعدیہ پہلا اہم اعلیٰ سطحی رابطہ ہے۔ اس ملاقات کی تصدیق چین کی وزارت خارجہ نے بھی کردی ہے۔

دوسری جانب چین کے اسٹیٹ کونسلر دائی بِنگ گُواو (Dai Bingguo) اگلے ہفتے کے دوران ایک اہم اجلاس میں شرکت کرنے میانمار پہنچ رہے ہیں۔ وہ میانمار میں میکانگ دریا کے ملکوں کی میٹنگ میں شریک ہوں گے۔ دائی بِنگ گُواو بھی سوچی سے ملاقات کریں گے۔ یہ امر اہم ہے کہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اسی ماہ کے اوائل میں میانمار کا دورہ کر چکی ہیں۔ کلنٹن نے اس دورے کے دوران سوچی سے دو بار ملاقات کی تھی۔

Wochenrückblick Welt KW 48 Iran Flash-Galerie

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور آنگ سان سوچی

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان Liu Weimin مطابق چین کے اسٹیٹ کونسلر دائی بِنگ گُواو (Dai Bingguo) سے آنگ سان سوچی کی ملاقات خاتون سیاستدان کی درخواست کی روشنی میں طے کی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق مادام آنگ سان سوچی نے سفیر سے بھی ملاقات کی خواہش کا کئی بار اظہار کیا تھا۔ سفیر کی ملاقات بھی ان کی خواہش کے مطابق طے پائی تھی۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ سوچی کے ساتھ ملاقات کے دوران چینی سفیر Li Junhua نے ان کے خیالات کو غور سے سنا۔

دوسری جانب نوبل انعام یافتہ جمہوریت نواز سیاستدان آنگ سان سوچی کے چیف آف اسٹاف کون تھا مائی اِنٹ (Khun Tha Myint) کے مطابق چینی سفیر کے ساتھ ملاقات آٹھ دسمبر کے روز ہوئی تھی اور ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ تھا مائی اِنٹ کے مطابق ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی تھی۔ میانمار کے ایک سابق سینیر سفارتکار نے اپنا نام مخفی رکھتے ہوئے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ آنگ سان سوچی اور چین کے درمیان رابطہ کاری بہت خوش آئند اور ایک نئے دور کی ابتدا ہے، جو دونوں ملکوں کے گہرے تعلقات پر مزید مفید اثرات کی حامل ہو گی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM