1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چینی ’اسکریوز‘ پر یورپی یونین کا اضافی ٹیکس غیر قانونی : WTO

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے یورپی یونین کی جانب سے چین سے درآمد ہونے والے اسکریوز، پیچ کس اور اس طرح کی دیگر مصنوعات پر فاضل ڈیوٹیز کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

default

جمعے کے روز اس عالمی ادارے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں یورپی یونین کی اس سختی کو بین الاقوامی تجارتی ضوابط کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف فریقین 60 روز کے اندر اپیل جمع کرا سکتے ہیں، تاہم اس فیصلے کو یورپی یونین کے خلاف چین کے پہلے تنازعے میں بیجنگ کی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔

اس فیصلے سے یورپی یونین کے ان اقدامات کو بھی دھچکا پہنچا ہے، جن کے تحت یونین ایسے ممالک سے درآمد پر سختی پر مصر ہے، جنہیں وہ مارکیٹ معیشت نہیں سمجھتی اور ان ممالک میں چین، ویتنام اور کیوبا جیسے ممالک شامل ہیں۔

Menschen unter den Flaggen der Europäischen Union und China vor dem Tiananmen Tor in Beijing

اس فیصلے کو چین کے لئے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے

اسی ہفتے کے آغاز پر چین کی طرف سے امریکہ کے خلاف بھی ایک اپیل دائر کی گئی تھی، تاہم بین الاقوامی ادارے نے چین کی اس شکایت کا فیصلہ امریکہ کے حق میں دیا تھا۔

چین کی طرف سے ڈبلیو ٹی او کے جمعے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ چین نے یورپی یونین کی طرف سے متعدد چھوٹی اشیاء پر عائد محصولات کو اضافی بوجھ اور غیر منصفانہ قرار دیا تھا اور اس کی شکایت ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن سے کی تھی۔ چین نے برسلز سے مطالبہ کیا تھا کہ ان محصولات کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔

اس کیس کی سماعت کرنے والے ڈبلیو ٹی او پینل نے اپنے فیصلے میں یورپی یونین کو ان محصولات کی واپسی کی ہدایات جاری کیں تاہم کہا کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دیا جاتا ہے۔

اس سے قبل ماہرین کا بھی یہی خیال تھا کہ ممکنہ طور پر اس مقدمے کا فیصلہ چین کے حق میں ہو سکتا ہے۔ تاہم چین کی طرف سے یورپی یونین کے خلاف کی گئی 394 صفحات پر مشتمل اس شکایت کے تمام نکات میں چین کی حمایت نہیں کی گئی ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM