1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

چیمپیئنز چیلنج ہاکی ٹورنامنٹ: نیوزی لینڈ فاتح

چیمپیئنز چیلنج ہاکی ٹورنامنٹ کے فائنل میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو دو کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے کر چیمپیئنز ٹرافی میں شرکت کا اہل ہو گیا ہے۔

default

ارجنٹائن کے شہر سالٹا میں چیمپیئنز چیلنج ہاکی ٹورنامنٹ نیوزی لینڈ کی ہاکی ٹیم نے جیت لیا ہے۔ فائنل میچ میں نیوزی لینڈ کی ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم کو شکست دی۔ پاکستان کی جانب سے دو گول کئے گئے جب کہ فاتح نیوزی لینڈر نے چار گول سکور کئے۔

ہر دو سال بعد کھیلے جانے والے ہاکی کے رینکنگ ٹورنامنٹ چیمپیئنز چیلنج میں نیوزی لینڈ نے طلائی، پاکستان نے چاندی اور بھارت نے کانسی کا تمغہ جیتا ہے

فائنل میچ میں ایک مقابلہ پاکستان کے سہیل عباس اور نیوزی لینڈ کے پنلٹی کارنر سپیشلسٹ اینڈریو ہیوارڈ کے درمیان بھی تھا۔ فائنل میچ میں ایک گول کر کے سہیل عباس نیوزی لینڈ کے ہیوارڈ پر بازی تو لے گئے لیکن وہ اپنی ٹیم کو فتح مند کروانے میں ناکام رہے۔

فائنل میچ شروع ہونے کے ساتویں منٹ پر سہیل عباس نےایک پنلٹی کارنر پر گول داغ دیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں نے ان ڈائرکٹ شارٹ کے ذریعے پنلٹی کارنر کو گول میں تبدیل کردیا۔ میچ برابر ہونے کے بعد تیز رفتار فارورڈ فلپ بورو نے دوسرا گول کرکے اپنی ٹیم کو سبقت دلا دی۔ پہلا ہاف ختم ہونے سے کچھ دیر قبل ریحان بٹ نے شاندار سٹک ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسرا گول کر کے میچ برابر کردیا۔ وقفے پر میچ برابری پر ختم ہوا۔

پہلے ہاف کے دوران ہی پاکستانی ٹیم کے کھیل سے ظاہر ہونے لگا تھا کہ وہ نیوزی لینڈ ٹیم کے دفاع کو اپنی ایشیئن ہاکی سٹائل سے توڑنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ اِسی باعث پاکستانی کھلاڑیوں نے لمبے لمبے پاس دے کر کھیلنا شروع کردیا جس کا بظاہر فائدہ نیوزی لینڈ ٹیم کو حاصل ہوا۔ وہ درمیان سے گیند اٹھا کر پاکستانی گول پر حملہ کرنے میں کامیابی حاصل کرتے رہے۔ دوسرے ہاف میں بھی پاکستانی ٹیم کے کھیل کا انداز اِس طرح تھا جواُن کی ناکامی کا باعث بنا۔

Pakistanischer Hockeyspieler Sohail Abbas

پنلٹی کارنر کے ماہر سہیل عباس

دوسرے ہاف کے دوران بھی نیوزی لینڈ کے فارورڈ کھلاڑی فلپ بورو، ریان آرچیی بالڈ اور سائنمن چیلڈ مسلسل پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجاتے رہے۔ پاکستانی ٹیم نے اپنی سی کوشش سے تین پنلٹی کارنر ضرور حاصل کئے تاہم ان سے گول نہیں کیا جا سکا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم نےمیچ ختم ہونے کے آخری پانچ منٹوں کے اندر دو مزید گول کر کے میچ پر اپنی گرفت مکمل کر لی۔ اِن میں بھی ایک گول فارورڈ کھلاڑی فلپ بورو نے کیا۔ ایک گول کے بعد سہیل عباس سے پنلٹی کارنر کے ذریعے گیند کو گول میں تبدیل نہ کیا جا سکا۔ یہ بھی پاکستانی ٹیم کی شکست کا سبب بنا۔

پاکستان اورنیوزی لینڈ کی ہاکی ٹیموں نے اِس سال کے دوران دو میچ کھیلے ہیں اور دونوں میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو کامیابی حاصل ہوئی۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو اتوار کے روز پاکستانی ٹیم کے خلاف کل کھیلے گئے چوالیس میچوں میں یہ پانچویں جیت حاصل ہوئی ہے۔

اِس کامیابی کے بعد اب نیوزی لینڈ کی ٹیم اگلے سال جرمنی میں کھیلی جانے والی چیمپیئنز ٹرافی میں شرکت کا اہل ہو گیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ