1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

چیمپیئنز ٹرافی : پاکستان آؤٹ، نیوزی لینڈ فائنل میں

جنوبی افریقہ میں کرکٹ کی چیمپیئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کی ایک اور فیورٹ ٹیم باہر ہو گئی ہے۔ سیمی فائنل میں نیوزی لینڈکی کرکٹ ٹیم نے پاکستانی ٹیم کو ہرایا۔

default

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان ڈینئل ویٹری سیمی فائنل کے مین آف دی میچ تھے

کرکٹ چیمپیئنز ٹرافی کا دوسرا سیمی فائنل پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا گیا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے دو سو چونتیس رنزکے ٹارگٹ کے حصول میں شاندار حکمت عملی اپنائی اور آخرکار کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے جنوبی افریقہ کے شہرجوہانس برگ میں پاکستان کو اڑتالیسویں اوور میں پانچ وکٹوں سے شکست دے کر پانچ اکتوبر کو سینچورین میں آسٹریلیا کے خلاف فائنل میچ کھیلنے کے لئے اپنی جگہ یقینی بنا لی ہے۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے بیٹنگ پاور پلے نے بھی پاکستان کی شکست میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ پاکستانی باؤلرز نے لائین اور لینتھ کے ساتھ گیند بازی بھی نہیں کی۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے گرانٹ ایلیٹ کے علاوہ راس ٹیلر اور کپتان ویٹوری نے بڑی پلاننگ سے بیٹنگ کی۔ آہستہ آہستہ سکور کو بڑھانے کے علاوہ کمزور بال پر شارٹ لگانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ اِس دوران پاکستانی ٹیم کے کپتان یونس خان نے گرانٹ ایلیٹ کا ایک آسان کیچ بھی چھوڑا جو شاید میچ کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ نیوزی لینڈ ٹیم کے کپتان ڈینیئل ویٹوری کو تین وکٹوں کے علاوہ میچ وننگ شراکت کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ ڈینیئل ویٹوری نے بیٹنگ کرتے ہوئے اکتالیس رنز بنائے تھے۔ نیوزی لینڈ کے بلے باز گرانٹ ایلیٹ نے انگوٹھے میں فریکجر کے باوجود شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔

پاکستان کی جانب سے نوید الحن اور عمر گُل نے اپنے ابتدائی اوورز میں اچھا تاثر نہیں قائم کیا۔ خاص طور پر نوید الحسن کے پہلے چار اوورز میں تیس رنز بنے۔ نوید الحسن نے اپنا آٹھواں اوور جو کہ میچ کا پینتالیسواں اوو تھا، اُس میں دو نو بال پھینکے اور کُل بارہ رنز دیئے جس سے نیوزی لینڈ کا

Younus Khan pakistanischer Cricketspieler

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان نے انتہائی اہم وقت پر گرانٹ ایلیٹ کا کیچ چھوڑ کر میچ گنوا دیا۔

مطلوبہ فی اوور رن ریٹ انتہائی کم رہ گیا۔ چھیالیسویں اوور میں عمر گل کو گرانٹ ایلیٹ نے پہلے تین گیندوں پر دو چوکے اور ایک چھکا لگا کر رہی سہی کسر نکال دی۔ دو اوورز میں انتیس رنز سے نیوزی لینڈ کی ٹیم نے ٹارگٹ کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں کر لیا۔ نیوزی لینڈ کے کپتان ویٹوری اور گرانٹ ایلیٹ کے درمیان 104 رنز کی شاندار رفاقت میچ وننگ پارٹنر شپ تھی۔ ویٹوری اُس وقت آؤٹ ہوئے جب نیوزی لینڈ کو میچ جیتنے کے لئے صرف چار رنز درکار تھے۔

اگر یونس خان گرانٹ ایلیٹ کا کیچ نہ چھوڑتے تو امید تھی کہ پاکستان کی ٹیم فائنل کے لئے کوالیفائی کر لیتی۔ تمام تر خراب باؤلنگ کے باوجود یہی کیچ سب سے مہنگا رہا جس نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ نیوزی لینڈ کے دو نو بال اور پانچ وائڈز کے جواب میں پاکستان کی جانب سے چھ وائڈ جبکہ چار نو بالز پھینکی گئیں۔ اِس کے علاوہ شعیب ملک نے تین اوورز بہتر پھینکے تھے پھر نوید الحسن کو گیند کروانے کی دعوت بھی حیران کُن تھی۔ حالانہ وہ اِس میچ میں کوئی امپکٹ چھوڑنے میں ناکام رہے تھے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی بلے باز ایک بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے۔ مقررہ پچاس اوورز میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم دو سو تینتیس تک بمشکل پہنچ پائی۔ پاکستان کے پہلے چار بیٹسمین صرف چھیاسی کے سکور پر آؤٹ ہو گئے تھے۔ اِس کے بعد محمد یوسف اور نوجوان بلے باز عمر اکمل نے پاکستانی ٹیم کو سہارا دیا۔ محمد یوسف نے پینتالیس اور عمر اکمل نے پچپن رنز بنائے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر نوجوان عمر اکمل سوجھ بوجھ کے ساتھ بیٹنگ کر سکتا تھا تو بقیہ پاکستانی بلے بازوں کو بھی دانش سے کھیلنا چاہیے تھا۔ پاکستان کے نو کھلاڑی ایک سو اٹھانوے کے سکور پر آؤٹ ہو گئے تھے۔ آخری وکٹ پر چھتیس رنز کی محمد عامر اور سعید اجمل کی ناقابلِ شکست پارٹنر شپ نے پاکستانی ٹیم کو موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی نپی تلی باؤلنگ سے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ جیتنے کی کوشش کر سکے۔