1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

چیمپیئنز ٹرافی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے، پونٹنگ

جنوبی افریقہ میں چیمپیئنز ٹرافی کا فائنل جیتنے کے بعد تنقید کے شکار آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ ، ایک بار پھر بہتر کپتان کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

default

اسٹار آسٹریلوی کپتان نے کہا کہ آئی سی سی چیمپینز ٹرافی جیتنے پر وہ بہت خوش ہیں، کیونکہ جس طرح ان کی ٹیم نے ٹورنامنٹ کا اختتام کیا ہے وہ نہایت شاندار تھا۔ پونٹنگ نے شین واٹسن کی پرفارمنس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم اور کھلاڑیوں کو ان کی محنت کا پھل ملا ہے۔ جوہا نسبرگ میں فائنل جیتنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سیمی فائنل اور فائنل کے ہیرو شین واٹسن نے پچھلے دوماہ میں جس طرح کی عمدہ پرفارمنس دکھائی ہے وہ قابل تعریف ہے۔

Cricket Champions Trophy Südafrika

فائنل میں کیوی ٹیم کے بیٹمین کے رن آؤٹ ہونے کا ایک منظر

نیوزی لینڈ کے کپتان برینڈن مک کلم نے کہا کہ انہیں فائنل نہ جیتنے پر افسوس ہے، مگر ٹیم کے اسٹار کھلاڑیوں کی انجری کے باوجود بھی، ان کی ٹیم کی کارکردگی اس ایونٹ میں بہتر رہی ہے۔

کل دفاعی چیمپئن آسٹریلیا نے چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں نیوزی لینڈ کو ہرا کر ایک مرتبہ پھر ٹورنامنٹ جیت لیا ہے۔ اپنے اعزاز کا دفاع کرتے ہوئے آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو چھ وکٹوں سے ہرا دیا تھا۔ جنوبی افریقہ کے شہر سنچوریئن کے سپر سپورٹ پارک پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی چیمپیئنز ٹرافی کا فائنل بظاہر یکہ طرفہ رہا۔ آسٹریلیا نے دو سو ایک رنز کا مطلوبہ ہدف انتہائی سہولت اور اطمینان سے پورا کر لیا۔ فائنل میچ کو آسٹریلیا نے چھ وکٹوں سے جیت کر چیمپیئنز ٹرافی کے اعزاز کا شاندار انداز میں دفاع کیا۔

ابتداء میں آسٹریلوی بلے بازوں کو سپر سپورٹ پارک کی پچ پر کچھ دشواری کا ضرور سامنا رہا لیکن کیمرون وائٹ اور شین واٹسن نے انتہائی شاندار انداز میں فائنل کو جیتنے میں کامیابی حاصل کی۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم ٹورنامنٹ میں مسلسل انجریز کے باعث کھلاڑیوں سے محروم ہوتی رہی ہے۔ فائنل میچ سے قبل کپتان ڈینئل ویٹوری ہیمسٹرنگ یا ران کے پچھلے حصے کے عضلات میں شدید کھچاؤ کے باعث خاصی تکلیف میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اِس باعث وہ فٹنس ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکامی کی وجہ سے ٹورنامنٹ کا اہم ترین میچ کھیلنے سے محروم رہے۔ اُن کی جگہ پاٹیل کو ٹیم میں لیا گیا جو کسی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔ ٹورنامنٹ کے دوران ویٹوری کا کھیل قابلِ تعریف رہا ہے۔ فائنل میں اُن کی کپتانی کے علاوہ بولنگ اور بیٹنگ میں بھی کمزوری کا واضح فرق پایا گیا۔

رپورٹ: انعام حسن /عابد حسین قریشی

ادارت: امجد علی