1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

چیمپیئنز لیگ میں بائرن میونخ کی تیسری کامیابی

جرمن فٹ بال کلب بائرن میونخ کے ساتھ بنڈس لیگا میں قسمت ساتھ نہیں دے رہی لیکن یورپ کے معتبر فٹ بال ٹورنامنٹ میں اس کی مجموعی کارکردگی بہتر دکھائی دیتی ہے۔ گروپ ای میں وہ پہلی پوزیشن پر ہے۔

default

جرمن فٹ بال کلب میونخ کے ماریو گومیز

جرمن شہرمیونخ میں یورپی فٹ بال کلبوں کے اہم ٹورنامنٹ چیمپیئنز لیگ میں گروپ ای کا ایک میچ کھیلا گیا۔ ہوم گراؤنڈ کے سامنے جرمنی کا تاریخ ساز فٹ بال کلب کوئی خاص عمدہ کھیل پیش نہ کر سکا تاہم خوش قسمتی کی وجہ سے وہ یہ میچ جیت ضرور گیا۔

بائرن میونخ نے اس میچ میں رومانیہ کے فٹ بال کلب کلوژ (Cluj) کو دو کے مقابلے میں تین گول سے ہرا دیا۔ اس میچ میں رومانیہ کا کلب بدقسمت تھا کیونکہ میونخ کے تین میں سے دو گول کلوژ کے کھلاڑیوں نے کئے۔ اس کامیابی کے باعث جرمن کلب اب چیمپیئنز لیگ کے پری کوارٹر فائنل مرحلے کے قریب پہنچ گیا ہے۔

رومانیہ کے کلب کلوژ کی جانب سے اپنے ہی گول میں گیند پھینکنے والوں میں ٹیم کے کپتان Cadu کے علاوہ کرسٹیان پانن شامل رہے۔ میچ میں رومانیہ کا کلب ایک گول کی برتری حاصل کئے ہوئے تھا کہ دس منٹوں میں اپنے گول میں دو بار گیند پھینک کر کلوژ کلب نے جرمن فٹ بال کلب کو ایک گول کی برتری دلوا دی۔ یہ دونوں گول رومانیہ کے کلب کی جانب سے پہلے ہاف میں کئے گئے۔

بائرن میونخ کی جانب سے تیسرا گول ماریو گومیز نے دوسرے ہاف میں کیا۔ اگر کلوژ فٹ بال کلب کے کھلاڑی دو گول نہ کرتے تو اس میچ میں وہ میونخ کی ٹیم کو ہرانےکی پوزیشن میں تھا۔ ماریو گومیز کے گول میں بھی رومانیہ کے کھلاڑیوں کا زیادہ ہاتھ رہا۔ کمزور دفاع اور نامناسب ٹیکلنگ کی وجہ سے گومیز گول کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ماریو گومیز اب تک چیمپیئنز لیگ کے تین میچوں میں پانچ گول کر چکے ہیں۔

چیمپیئنز لیگ کے گروپ ای میں اب تک مسلسل تین میچوں میں بائرن میونخ کو کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔ ان کامیابیوں سے اس کے نو پوائنٹس ہیں اور وہ گروپ لیڈر بھی ہے۔ گزشتہ سال بائرن میونخ کی ٹیم چیمپیئنز لیگ کے فائنل میں ہار کر رنر اپ ٹھہری تھی۔ رومانیہ کے کلب کلوژ کے تین پوائنٹس ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ بائرن میونخ کے کئی فرنٹ لائن کھلاڑی پوری طرح فٹ نہیں ہیں اور اسی باعث اس کا بنڈس لیگا میں بھی کھیل توقعات کے مطابق نہیں ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس