1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چھ یورپی ملکوں میں چھاپے، پندرہ مشتبہ عسکریت پسند گرفتار

اطالوی حکام کے مطابق یورپ کے چھ ملکوں میں چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے کم از کم پندرہ مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزمان ناروے اور مشرق وسطیٰ میں حملے کرنا چاہتے تھے۔

اطالوی پولیس نے کہا ہے کہ ملزمان مشرق وسطیٰ میں ناروے اور برطانوی سفارت کاروں پر حملے کرنا چاہتے تھے جبکہ ان کے مبینہ منصوبوں میں ناروے کے سیاستدانوں کو نشانہ بنانا بھی شامل تھا۔ تاہم اٹلی کی پولیس نے نہ تو اہداف کے بارے میں بتایا ہے کہ کن سفارت کاروں کو نشانہ بنایا جانا تھا اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ یہ حملے کب اور کس مقام پر کیے جانے تھے۔

دوسری جانب اوسلو پولیس نے کہا ہے کہ ناروے کے شہریوں یا پھر مفادات کو ’’کوئی بھی واضح یا حتمی خطرہ لاحق نہیں تھا۔‘‘ بتایا گیا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے تمام افراد کا تعلق کرد سُنی عسکری گروپ ’دیدی نوی‘ سے ہے۔ یہ گروپ عراقی کردستان کی حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے وہاں شریعت کا نفاذ چاہتا ہے۔ اس گروپ کے خلاف تحقیقات کا آغاز اطالوی پولیس نے کر رکھا ہے جبکہ آج صبح مارے جانے والے چھاپوں میں اطالوی سکیورٹی فورسز کے علاوہ برطانیہ، ناروے، فن لینڈ، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی پولیس بھی شامل تھی۔

اٹلی میں انسداد دہشت گردی اور انسداد مافیا کے ادارے کے سربراہ فرانکو رابرٹی کا کہنا تھا، ’’یہ ناقابل یقین حد تک مشکل اور پیچیدہ تحقیقات تھیں اور یہ گزشتہ پانچ برسوں سے جاری تھیں۔‘‘ مجموعی طور پر سترہ افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے اور ان میں سے پندرہ کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان میں سے ایک مطلوب شخص عراق میں موجود ہے جبکہ دوسرا سوئٹزرلینڈ میں، جس کی تلاش فی الحال جاری ہے۔ گرفتار ہونے والے تمام ملزمان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں ملا کریکار بھی شامل ہیں، ملا کریکار انصار الاسلام نامی عسکری گروپ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ ملا کریکار پہلے ہی سے ناروے کی ایک جیل میں اٹھارہ ماہ کی قید کاٹ رہے ہیں۔ ان پر لائیو انٹرویو میں ایک کرد شہری کو دھمکی دینے کا الزام تھا۔ کریکار نے انیس سو اکانوے کے دوران ناروے میں سیاسی پناہ حاصل کی تھی۔