1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

چھ ہزار سے زائد مہاجرین کو بچایا گیا ہے، آئی او ایم

لیبیا سے اٹلی پہنچنے کی کوشش کرنے والے چھ ہزار مہاجرین کو بچا لیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق ان مہاجرین کو گزشتہ چند ایام کے دوران کوسٹ گارڈز نے ڈوبنے سے بچایا۔

عالمی ادارہ برایے مہاجرین (IOM) کے ترجمان جوئل مِلمین نے بتایا ہے کہ بحیرہ روم کے وسطی بین الاقوامی سمندری حصے میں سے کمزور کشتیوں پر سوار چھ ہزار سے زائد مہاجرین کو سمندر میں ڈوبنے سے بچا لیا گیا ہے۔ ملمین کے مطابق یہ غیرقانونی مہاجرین انسانی اسمگلروں کے ذریعے لیبیا سے اٹلی پہنچنے والے سمندری راستے پر شکستہ کشتیوں پر سوار تھے۔

دنیا بھر میں مہاجرین کے معاملات پر نگاہ رکھنے والی  اس بین الاقوامی تنظیم کے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ چند ایام میں جہاں ہزاروں افراد کو بچایا گیا، وہاں تقریباً پانچ سو افراد سمندری لہروں کی لپیٹ میں آ کر ڈوب بھی گئے۔ ان پانچ سو افراد کے ڈوبنے کی تصدیق لیبیا کے یورپی تربیت یافتہ  ساحلی محافطوں  نے بھی کی ہے۔

Mittelmeer - Flüchtlinge – Boot (Getty Images/AFP/A. Messinis)

مہاجرین کی کشتی سے ایک بچے کو بچانے کے بعد ابس کی ماں کے حوالے کیا جا رہا ہے

ترجمان جوئل ملمین نے اپنی نیوز بریفنگ میں واضح کیا کہ رواں برس کے دوران اب تک بیس ہزار مہاجرین اٹلی پہنچنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صرف گزشتہ ویک اینڈ پر کم از کم کھلے سمندر میں گشت کرنے والے کوسٹ گارڈز نے تقریباً تینتیس سو افراد کو ڈوبنے سے بچا لیا ہے۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ اٹلی پہنچنے والے غیرقانونی مہاجربن کو روکنے کے لیے ایک متفقہ حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش کے لیے پیر بیس مارچ کو اطالوی دارالحکومت روم میں یورپی اور شمالی افریقی ملکوں کے وزرائے داخلہ کا اجلاس بھی منعقد ہوا ہے۔

نیوز بریفنگ میں آئی او ایم کے ترجمان نے بتایا کہ ابھی مارچ کا مہینہ چل رہا لیکن مہاجرین کی آمد کے مقامات پر مہاجرین کی تعداد بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔ ملمین نے بحیرہ روم سے گزر کر اٹلی پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد کو غیر معمولی قرار دیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ موسم بہار کی آمد پر مہاجرین کی کشتیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ کچھ ہفتوں کے لیے بحیرہ روم کی شدید تلاطم خیزی میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔