1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چھ ماہ کا عبوری دور پھر انتخابات، شام کے لیے ایرانی تجویز

شام کے بحران کے حل کے لیے آسٹریا میں جاری بین الاقوامی مذاکرات کے دوران ایران نے کہا ہے کہ وہ چھ ماہ کے ایک عبوری دور اور اس کے بعد شام میں انتخابات کے انعقاد کی حمایت کرے گا۔ تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کا جمعے کے روز کہنا تھا کہ ایران شامی صدر بشار الاسد کو تا حیات حکومت میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ آج جمعے کو عالمی طاقتیں، ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں شام کے بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے پہلی بار مذاکرات میں ایک ساتھ شریک ہو رہے ہیں۔ قبل ازیں ایران کی جانب سے یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ وہ بحران کے حل کے لیے مدد کرنے کو تیار ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ شام کے مسئلے پر اسد کا حلیف ایران سفارتی سطح پربات چیت میں شامل ہو رہا ہے تاہم ان مذاکرات میں شام کی حکومت اور باغیوں کے کسی نمائندے کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔

سعودی ایران رسہ کشی

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اسمعیل عود شیخ احمد نے ایران اور سعودی عرب کے ایک فورم پر اکھٹے ہونے کو علاقائی سالمیت کے لیے مثبت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا، ’’میں سمجھتا ہوں کہ خلیجی ممالک میں مذاکرات کا عمل بڑھنا چاہیے، خاص طور پر سعودی عرب اور ایران کے درمیان۔‘‘

شیخ احمد بھی ویانا میں جاری مذاکرات میں شریک ہیں۔ ’’ایران اور سعودی عرب پڑوسی ہیں اور ان کا متفق ہونا ضروری ہے۔ ‘‘

واضح رہے کہ سعودی عرب صدر اسد کا مخالف ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ شام کے مستقبل میں اسد کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ یہی بات امریکا اور مغربی ممالک بھی کہتے ہیں۔ دوسری جانب ایران اور روس اسد حکومت کے بڑے حامیوں میں سے ہیں۔

سعودی عرب اور ایران یمن تنازعے میں بھی فریق ہیں، جہاں سعودی عرب ایران کے حمایت یافتہ شیعہ حوثی باغیوں کے قبضے سے شمالی علاقوں کو ’آزاد‘ کرانے کے لیے کئی ماہ سے فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسد حکومت مضبوط تر؟

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ آج جمعے کے روز شامی دارالحکومت میں حکومت کی جانب سے راکٹ برسائے گئے جس کے نتیجے میں ایک بچے سمیت چالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ شام کی صورت حال پر نظر رکھنے والی اس تنظیم کے مطابق حملوں میں کم از کم سو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بم باری اب بھی جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ یہ حملے ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب ویانا میں شام کے بحران کو حل کرنے کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں۔