1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چھ ماہ میں رولز رائس کا منافع دو گنا سے بھی زیادہ

لگژری کاریں اور ہوائی جہازوں کے انجن تیار کرنے والی برطانوی کمپنی رولز رائس کا منافع اس سال کی پہلی ششماہی میں دو گنا سے بھی زیادہ ہو گیا، جس کی بڑی وجہ رولز رائس گاڑیوں اور طیاروں کے انجنوں کی فروخت میں واضح اضافہ بنا۔

default

رولز رائس کی تیار کردہ ’سوَیپ ٹیل‘، دنیا کی مہنگی ترین گاڑی جس کی قیمت قریب بارہ ملین برطانوی پاؤنڈ بنتی ہے

برطانوی دارالحکومت لندن سے منگل یکم اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق عالمی سطح پر مشہور اس برطانوی کمپنی کی طرف سے آج بتایا گیا کہ گزشتہ سال کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں سال رواں کے پہلے چھ ماہ کے دوران رولز رائس کا قبل از ٹیکس منافع بڑھ کر 276 فیصد ہو گیا۔

ان چھ ماہ کے دوران اس برٹش کمپنی کی بہت اچھی کاروباری کارکردگی کی بڑی وجہ یہ رہی کہ اس عرصے میں نہ صرف دنیا بھر میں رولز رائس گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوا اور ساتھ ہی کمپنی کے پیداواری اور انتظامی لاگت کم کرنے سے متعلق اقدامات بھی مؤثر ثابت ہوئے بلکہ ساتھ ہی اسی کمپنی کے تیار کردہ مختلف ہوائی جہازوں کے انجنوں کی نئی قسم Trent XWB کی فروخت میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا۔

کمپنی کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق 2016ء میں یکم جنوری سے لے کر 30 جون تک کے عرصے کے مقابلے میں 2017ء کے اسی عرصے کے دوران رولز رائس کا منافع 104 ملین پاؤنڈ سے بڑھ کر 287 ملین پاؤنڈ یا 382 ملین امریکی ڈالر کے برابر ہو گیا۔

اسی دوران اس کمپنی کی مجموعی آمدنی میں بھی چھ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جو ایک ماہ قبل ختم ہونے والی ششماہی کے دوران بڑھ کر 6.87 بلین پاؤنڈ ہو گئی۔

رولز رائس کے شہری ہوا بازی کے لیے استعمال ہونے والے طیاروں کے انجنوں کی نئی قسم ٹرینٹ ایکس ڈبلیو بی کو یورپی طیارہ ساز کنسورشیم ایئر بس کی طرف سے اس کے کمرشل طیاروں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

Rolls-Royce Trent XWB

رول‍ز رائس کے تیار کردہ انجن ایئر بس طیاروں میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں

رولز رائس کے سربراہ وارین ایسٹ نے بتایا کہ سول ایرواسپیس شعبے میں اس کمپنی کے انجنوں کی فروخت میں 27 فیصد اضافہ ہوا اور نئے طے شدہ آرڈرز کو دیکھا جائے تو یہ رجحان آئندہ بھی جاری رہے گا۔

اس کے علاوہ رولز رائس نے اپنے انتظامی اخراجات میں انہی چھ ماہ کے دوران سات فیصد کی کمی بھی کر لی، جو 38 ملین پاؤنڈ کے برابر بنتی ہے۔

اس برٹش کمپنی کو صرف ہوائی جہازوں کے انجن بنانے میں ہی مہارت حاصل نہیں بلکہ اس کی تیار کردہ بہت مہنگی لگژری کاریں بھی دنیا بھر کے امراء میں بہت پسند کی جاتی ہیں۔

رولز رائس نے ابھی کچھ عرصہ قبل ہی اپنی تیار کردہ ایک نئی گاڑی ’سوَیپ ٹیل‘ Sweptail بھی متعارف کرائی تھی۔ یہ گاڑی دنیا کی سب سے مہنگی گاڑی قرار دی جاتی ہے، جس کی قیمت 12 ملین برطانوی پاؤنڈ بتائی گئی تھی اور اس کمپنی نے ایسی صرف ایک ہی گاڑی تیار کی تھی۔

DW.COM