1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چھ عرب ملکوں نے حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دے دیا

چھ رکنی خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) نے لبنان کی حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ اس سے پہلے سعودی عرب نے لبنان کو دی جانے والی چار ارب ڈالر کی امداد بند کر دینے کا اعلان کر دیا تھا۔

جی سی سی کے سیکرٹری جنرل عبدالطیف الزیانی نے کہا ہے کہ شامی جنگ میں حزب اللہ کے کردار کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ یہ تنظیم خلیجی ممالک کے نوجوانوں کو دہشت گردی کے لیے بھرتی کر رہی ہے۔ گزشتہ ماہ سعودی عرب کی جانب سے لبنان کی تین ارب ڈالر کی عسکری امداد روکے جانے کے بعد چھ رکنی خلیجی تعاون کونسل نے بھی حزب اللہ کے خلاف سخت اقدامات کرنا شروع کر دیے ہیں۔

قبل ازیں متعدد خلیجی ممالک اور سعودی عرب نے اپنے تمام تر شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ لبنان چھوڑ دیں۔ اس کا مقصد لبنان کی سیاحتی صنعت کو دھچکا پہنچانا تھا۔ اس موقع پر جنرل عبدالطیف الزیانی کا مزید کہنا تھا کہ حزب اللہ ان چھ خلیجی ممالک کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ حزب اللہ پر مزید یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عراق اور یمن میں بھی ایسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جو اخلاقی اور انسانی اقدار کے علاوہ بین الاقوامی قوانین کے بھی منافی ہیں۔ کونسل کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ’’حزب اللہ کی سرگرمیاں عرب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔‘‘

Hisbollah Flagge Libanon

خلیجی ممالک سے پہلے امریکا بھی حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے جبکہ یورپی یونین حزب اللہ کے صرف عسکری بازو کو دہشت گرد قرار دیتی ہے

خلیجی تعاون کی کونسل (GCC) میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، بحرین اور عمان شامل ہیں۔ لبنان کی مرکزی سیاست بنیادی طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہے۔ ایک دھڑے کی قیادت سنی اتحاد کے پاس ہے جبکہ دوسرے دھڑے کی سربراہی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے ہاتھوں میں ہے۔ شام کی خانہ جنگی کی وجہ سے ماضی میں اس ملک کو بھی متعدد مرتبہ بم دھماکوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

خلیجی ممالک سے پہلے امریکا بھی حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے جبکہ یورپی یونین حزب اللہ کے صرف عسکری بازو کو دہشت گرد قرار دیتی ہے۔

خلیجی عرب ممالک کے آج کے فیصلے سے پتہ چلتا ہے کہ خطے میں سنی ملک سعودی عرب اور شیعہ ملک ایران کے مابین خلیج مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔

خلیجی تعاون کونسل کا یہ بیان حزب اللہ کے لیڈر حسن نصراللہ کی ایک تقریر کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ ٹیلی وژن پر نشر کی گئی اس تقریر میں حسن نصراللہ کی طرف سے سعودی عرب کی ان تادیبی کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، جن کے تحت لبنان پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ حسن نصراللہ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سعودی عرب عراق، شام اور لبنان میں ہونے والے کار بم دھماکوں اور یمن میں جاری ’قتل عام‘ میں براہ راست ملوث ہے۔