1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چھ جوہری ری ایکٹروں کی تعمیر، بھارت معاہدے کے قریب تر

نئی دہلی حکومت کو امید ہے کہ وہ جلد ہی ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک کمپنی کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ طے کر لینے میں کامیاب ہو جائے گی، جس کے تحت اگلے برس کی پہلی ششماہی میں بھارت میں چھ ایٹمی ری ایکٹر تعمیر کیے جا سکیں گے۔

Kudankulam Kernkraftwerk

جنوبی بھارتی ریاست تامل ناڈو کے ایک ساحلی علاقے میں روس کی مدد سے تعمیر کیا جانے والا ایٹمی بجلی گھر

بھارتی دارالحکومت سے جمعرات چوبیس دسمبر کے روز موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار نے آج بتایا کہ جوہری توانائی کے اس منصوبے کی مجموعی مالیت قریب 150 ارب ڈالر ہو گی اور بظاہر اس منصوبے کے خد و خال واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق مجوزہ ایٹمی بجلی گھر ریاست گجرات میں تعمیر کیا جائے گا، جہاں موجودہ ملکی وزیر اعظم نریندر مودی کئی سال تک وزیر اعلیٰ رہے ہیں اور یہ منصوبہ بھارتی حکومت کے اس پروگرام کو بھی تیز تر بنا دے گا، جس کے تحت ملک میں قریب 60 نئے نیو کلیئر ری ایکٹر تعمیر کیے جائیں گے۔

اس مجوزہ منصوبے پر کام سے بھارت چین کے بعد پوری دنیا میں ایٹمی توانائی کی دوسری سب سے بڑی منڈی بن جائے گا۔ بھارت میں اس وقت ایٹمی ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی کا حجم 5,780 میگا واٹ بنتا ہے اور حکومت کی خواہش ہے کہ 2023ء تک یہ حجم تقریباﹰ 11 گنا اضافے کے ساتھ 63 ہزار میگا واٹ تک بڑھا دیا جائے۔

امریکا نے 2008ء میں بھارت کے ساتھ ایٹمی توانائی کے شعبے میں تعاون کا ایک معاہدہ طے کیا تھا۔ اس کے بعد نئی دہلی اور واشنگٹن کے مابین جوہری شعبے میں تجارت کا راستہ کھل گیا تھا۔ جوہری توانائی کے شعبے میں بھارت کو تکنیکی مواد اور ساز و سامان مہیا کرنے والے ممکنہ اداروں کو کافی عرصے سے تشویش تھی کہ نئی دہلی کو کسی بھی امکانی صورت حال کے لیے ایک ایسا انشورنس فنڈ قائم کرنا چاہیے، جس کی مالیت قریب 15 بلین بھارتی روپے ہو۔

مودی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق اس بارے میں ایک آخری رکاوٹ یہ ہے کہ بھارت ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے IAEA کے جوہری وجوہات کی بنا پر نقصانات کے ثانوی ازالے سے متعلق کنونشن CSC کی بھی توثیق کرے۔ اس کنونشن کی توثیق اب اگلے چند ہفتوں میں متوقع ہے۔

Indien Kashmir Srinagar Premierminister Narendra Modi

مجوزہ ایٹمی بجلی گھر ریاست گجرات میں تعمیر کیا جائے گا، جہاں موجودہ ملکی وزیر اعظم نریندر مودی کئی سال تک وزیر اعلیٰ رہے ہیں

اس کے علاوہ اب ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک کمپنی نے بھی اپنے ایک بیان میں کہہ دیا ہے کہ وہ توقع کرتی ہے کہ بھارت جلد ہی CSC کنونشن کے تقاضے پورے کرنے کے لیے پیش قدمی کرے گا۔ یہ بیان جوہری توانائی کی عالمی منڈی کے لیے اتنا اہم تھا کہ آج جمعرات کے روز اس اطلاع کے ملتے ہی ویسٹنگ ہاؤس کی مالک کمپنی توشیبا کارپوریشن کے حصص کی قیمتوں میں کئی ملکوں میں اسٹاک مارکیٹیں بند ہونے کے باوجود 3.3 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔

بھارتی حکومتی اہلکار مِٹھی وِردی کے بقول ویسٹنگ ہاؤس کے ماہرین اور بھارتی نیوکلیئر آپریٹر NPCIL کے مذکراتی نمائندوں کے مابین گجرات کے مجوزہ جوہری بجلی گھر کے بارے میں حال ہی میں مذاکرات کے کئی دور مکمل ہو چکے ہیں۔

DW.COM