1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’چھوٹے کے کندھوں پر بڑی ذمہ داری‘

مالٹا یورپی یونین کا سب چھوٹا رکن ملک ہے۔ آج یکم جنوری سے اگلے چھ مہینوں کے لیے یورپی یونین کی صدارت اب مالٹا کے پاس ہو گی۔ اس دوران مالٹا کی کوشش ہو گی کہ ہجرت کے موضوع پر سب سے زیادہ توجہ دی جائے۔

مالٹا کی جانب سے تارکین وطن کے موضوع پر خاص توجہ اس لیے بھی مرکوز کی جائے گی کیونکہ یہ ملک بحیرہ روم کے ذریعے یورپ میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی ایک منزل ہے۔ مہاجرین کے موضوع پر یورپی یونین کے رکن ملکوں میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے اور اس تناظر میں مالٹا پر کڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کس طرح ایک ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے اس اتحاد میں پائے جانے والے اختلافات کو دور کر پاتا ہے۔

دوسری جانب سیاسی پناہ کی درخواستوں کے ایک نئے نظام کے حوالے سے بھی یورپی یونین میں تنازعہ موجود ہے، جسے حل کرنے کے لیے بھی مالٹا کو کوششیں کرنا ہوں گی۔ چھ ماہ کے دوران مالٹا کو اس سوال کا جواب بھی تلاش کرنا ہو گا کہ مستقبل میں یورپ پہنچنے والے تارکین وطن کو کس طرح رکن ممالک میں تقسیم کيا جانا چاہیے۔

Malta Premierminister Joseph Muscat

مالٹا کے وزیر اعظم جوزیف موسکیٹ

ہجرت کے علاوہ ایک اور موضوع ایسا ہے، جو اگلے چھ ماہ کے دوران ویلیٹا حکام کو بہت مصروف رکھ سکتا ہے اور وہ ہے بریگزٹ یا برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کا موضوع۔ بریگزٹ کے  لیے اگر مارچ میں برطانیہ اس اتحاد سے نکلنے کی درخواست جمع کراتا ہے تو وزیر اعظم جوزیف موسکیٹ کو اس مقصد کے لیے ہونے والے مذاکرات کے انتظامات میں بھی شریک ہونا پڑے گا۔ مالٹا بھی برطانیہ کی نوآبادی رہ چکا ہے۔

مالٹا 2004ء سے یورپی یونین کا رکن ہے جبکہ 2008ء میں یہ یورو کرنسی زون میں شامل ہوا تھا۔ مالٹا جنوبی یورپ کے دیگر ملکوں اٹلی یا یونان کی طرح قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا نہیں ہے۔ اس ملک کی آمدنی کے تین بڑے ذریعے ہیں اور ان میں سیاحت، تجارت اور مالیاتی خدمات کے شعبے شامل ہیں۔

 مالٹا کا جزیرہ اٹلی اور لیبیا کے درمیان بحیرہ روم ميں واقع ہے۔ اسی وجہ سے یہ پناہ کے متلاشی ان ہزاروں افریقی باشندوں کی ایک منزل بھی ہے، جو ایک بہتر زندگی کے خواب لیے یورپ آنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ ششماہی کے دوران یورپی یونین کی سربراہی کی ذمہ داری سلوواکیہ کے پاس تھی۔