1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

چھوٹے اور ماحول دوست کھیت خوراک کا بحران روک سکتے ہیں

اقوام متحدہ نے بڑھتے ہوئے عالمی درجہ ء حرارت پر قابو پانے اور عالمگیر سطح پر خوراک کے بحران سے بچنے کی ایک ترکیب نکالی ہے۔

default

ایک تازہ رپورٹ میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہی گئی ہے کہ چھوٹے پیمانے پر ماحول دوست کاشت کاری کو فروغ دے کر ان دونوں پریشانیوں کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں انسانی آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اس تناظر میں بالخصوص ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک سرفہرست ہیں۔ دنیا کی لگ بھگ سات ارب آبادی میں سے ایک ارب سے بھی زائد انسان ایسے ہیں جو نہایت کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کی روزانہ کی اجرت کا اندازہ ایک ڈالر سے بھی کم لگایا جارہا ہے۔ اس معاملے کو موسمیاتی تبدیلیوں نے یوں زیادہ سنگین کردیا ہے کہ بیشتر خوراکی اجناس کی فصلیں حالیہ عرصے میں متاثر ہوئی ہیں۔

Fladenbrot Bäckerei in Kairo Flash-Galerie

یو این کا اندازہ ہے کہ رواں صدی کے وسط میں دنیا میں خوراک کی کمی کا مسئلہ زیادہ سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے

یو این کا اندازہ ہے کہ رواں صدی کے وسط میں دنیا کی آبادی نو ارب کے قریب پہنچ جائے گی اور خوراک کی کمی کا مسئلہ زیادہ سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے، جس کے لیے پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہوگا۔ اس ضمن میں اصل امتحان یہ ہوگا کہ ترقی پذیر ممالک میں کاشت کاری کے رجحانات کو بدلا جائے۔ یعنی وہاں فرٹیلائزر و کیڑے مار ادویات کے بے دریغ استعمال کے بجائے زیادہ دیرپا اور ماحول دوست تکنیک متعارف کروائی جائے۔

اقوام متحدہ میں حقِ خوراک کے ادارے کے خصوصی رپورٹر Olivier De Schutter کا کہنا ہے، ’’ ہم ایسی حالت میں نہیں کہ جہاں زراعت کا مقصد محض پیداوار میں اضافہ ہو، اس میں لازمی طور پر ماحولیاتی نظام پر پڑنے والے اثرات کو بھی محدود کرنا ہوگا اور کسان کی آمدن میں اضافے پر غور ہونا چاہیے‘‘۔

ان کے بقول کاشت کاری کے روایتی طریقوں سے زمین کی زرخیزی پر اثر پڑتا ہے، ماحولیاتی تبدیلی کا عمل تیز ہوتا ہے اور یہ مہنگے input پر انحصار کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے یہ مصنف کہتے ہیں کہ سادہ الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے یہ ایک بہترین انتخاب نہیں رہا۔

Unterernährung auf Haiti Lebensmittelhilfe

بہت سے پسماندہ ممالک خوراک کے لیے بین الاقوامی امداد پر انحصار کرتے ہیں

اقوام متحدہ کے محققین نے گزشتہ پانچ سال کے دوران شائع ہونے والے ایسے سائنسی مواد کا جائزہ لیا ہے جو غریب ممالک میں اچھے نتائج کا حامل ہے۔ اس بنیاد پر یہی نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ چھوٹے نامیاتی کھیت جہاں فصلوں اور پیڑوں کا مختلف امتزاج ہو بہترین ہیں۔

ان اصولوں پر عمل کرکے افریقہ کے 20 ممالک میں گزشتہ دس سالوں کے دوران حاصل ہونے والی فصل دُگنی ہوگئی ہے۔ اس طریقے سے ایک تو کیمیکلز ‌خریدنے کا خرچ کم ہوجاتا ہے دوسرا زمین لمبے عرصے تک زرخیز رہتی ہے۔ خوراک کے کسی عالمگیر بحران کو روکنے کی ایک اور تجویز یہ پیش کی گئی ہے کہ جنیاتی طور پر بہتر بنائی گئی اجناس اور خوراک کے شعبے میں مزید صنعتکاری کو فروغ دیا جائے جبکہ بائیو فیول کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM