1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چھوٹی چھوٹی باتوں پر قتل، پاکستانی معاشرہ کس طرف جا رہا ہے؟

لاہور میں ایک سنگدل باپ کے ہاتھوں تیرہ سالہ معصوم بیٹی کے محض اچھی طرح سے روٹی نہ پکانے پر قتل یا پھر ڈسکہ میں جہیز نہ لانے پر دلہن کو تیزاب پلا کر ہلاک کرنے جیسے واقعات نے عوام کو شدید خوف اور تشویش سے دوچار کر دیا ہے۔

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کے علاقے شاد باغ کے خالد نامی ایک رہائشی کی بیوی اسے چھوڑ کر اپنے میکے چلی گئی تھی۔ اس شخص نے اپنی 13 سالہ بچی انیقہ کو روٹی بنانے کے لیے کہا۔ اس کی بیٹی نے روٹی بنائی لیکن بچی کی بنائی ہوئی روٹی اسے پسند نہ آئی۔ صرف اتنی سی بات پر مشتعل ہو کر اس نے اپنی بیٹی کو ڈنڈے سے تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا۔

غصے میں آ کر اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو مار دینے کے ایسے کئی اور واقعات بھی پاکستانی اخبارات میں وقفے وقفے سے رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ چند ماہ پہلے فیصل آباد کے ایک شخص نے اپنے بچے کے مدرسے نہ جانے پر مشتعل ہو کر اُسے ہلاک کر دیا تھا۔ غربت سے تنگ آئے ہوئے والدین بھی بعض اوقات اپنے بچوں کی زندگیاں ختم کر ڈالتے ہیں۔

عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحانات لیے پاکستانی معاشرہ آخر کس طرف جا رہا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ورلڈ سائیکیٹرک ایسوسی ایشن کے جنوب مغربی ایشیا کے نمائندے اور خیبر میڈیکل کالج پشاور کے سابق پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر خالد مفتی نے بتایا کہ یہ بہت خطرناک بات ہے کہ اب پاکستان میں ہونے والے ایسے واقعات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کے بقول پاکستانی معاشرے میں پائی جانے والی عدم برداشت کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت پاکستانی معاشرہ تناؤ کا شکار ہے۔ بڑھتی ہوئی غربت، حد سے زیادہ بڑھی ہوئی سماجی و اقتصادی عدم مساوات، دہشت گردی کے پے در پے ہونے والے واقعات کے صدمات اور اس تناؤ کو کم کرنے کی کوششوں کے فقدان کی وجہ سے لوگ اپنا جذباتی اور ذہنی توازن کھوتے جا رہے ہیں۔

ان کے نزدیک لاہور میں ہونے والے واقعے میں ملوث شخص ذہنی طور پر مریض بھی ہو سکتا ہے۔ اس واقعے کو مثال بنا کر اس کا تجزیہ کر کے ان امور کا پتہ چلایا جانا چاہیے، جن کی وجہ سے وہ یہ انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوا۔

Symbolbild Angst Depression

’’غربت، سماجی عدم مساوات، دہشت گردی کے مسلسل واقعات کے صدمات اور اس تناؤ میں کمی کی کوششوں کے فقدان کی وجہ سے لوگ اپنا جذباتی توازن کھوتے جا رہے ہیں

ڈاکٹر خالد مفتی کے مطابق وفاقی اور صوبائی سطح پر عوام کے ذہنی مسائل کے حل کے لیے ڈاکٹروں، ماہرین نفسیات اور زندگی کے دیگر شعبوں کے ماہرین پر مبنی ایسی سٹیئرنگ کمیٹیاں بننی چاہییں، جو ان واقعات کا تجزیہ کر کے حکومت کو اس بارے میں صورتحال کی بہتری کے لیے پالیسی سازی سے متعلق مشورے دے سکیں۔

پنجاب یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ سائیکالوجی کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ کوثر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس واقعے میں مار دی جانے والی بچی انیقہ کے کھانا پکانے کے نہیں بلکہ کھیلنے کودنے کے دن تھے، اسے سزا کی نہیں بلکہ شفقت کی ضرورت تھی۔ ان کے بقول یہ صورتحال ماضی میں ہونے والے واقعات کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ ہے۔ سیالکوٹ میں دو بچوں کو ظالمانہ طریقے سے مار دینے کے بعد معاشرے کو سدھارنے کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں، اسی وجہ سے باقی واقعات رونما ہوتے گئے۔ سو بچوں کے مبینہ قاتل جاوید اقبال کے جرائم کے بعد اصلاحی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے قصور جیسے واقعات نے جنم لیا۔

ان کے بقول پاکستان میں اقتصادی مشکلات کے ساتھ ساتھ فیملی سسٹم کے غیر مؤثر ہونے اور والدین کی طرف سے بچوں کی تربیت درست طریقے سے نہ کرنے سے بھی صورتحال خراب ہو رہی ہے۔ حالت یہ ہوگئی ہے کہ ون وے کی خلاف ورزی کر کے آنے والے ڈرائیور کو بھی ہارن دیں تو وہ غصے سے آنکھیں نکالتا ہے۔ اور تو اور اب لوگ مخالفانہ نقطہٴ نظر سننے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ ان کے بقول اس غصے کا اظہار ہمیں ٹاک شوز کے دوران بھی دیکھنے کو ملتا ہے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ ہم ایسے پُر تشدد مناظر اور مار دھاڑ والے واقعات کی خبریں اور ٹاک شوز دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ ان کی رائے میں پاکستانی میڈیا معاشرے میں برداشت کو فروغ دینے کی بجائے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کر رہا ہے۔

Symbolbild Gewalt gegen Frauen in Indien

’’خاص طور پر معاشرے کے کمزور طبقات بشمول عورتوں، بچوں اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں زیادہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے‘‘

پنجاب یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل سائینسز کے سربراہ ڈاکٹر ذکریا ذاکر پاکستانی معاشرے کے اندر نظر آنے والے رجحانات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ایک ماہر اور ایک شہری کی حیثیت سے اُنہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاکستان میں تشدد کے بھیانک واقعات بڑھتے جا رہے ہیں، خاص طور پر معاشرے کے کمزور طبقات بشمول عورتوں، بچوں اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں زیادہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، ہم ایسے واقعات کے تدارک کے لیے اقدامات کرنے کی بجائے ان پر آواز اٹھانے والوں کو مغربی پراپیگنڈے کا طعنہ دے کر اصلاحی ذمہ داریوں سے جان چھڑا لیتے ہیں۔

ڈاکٹر ذکریا ذاکر کے بقول جب تک معاشرے میں مردوں کی غیر منصفانہ بالا دستی کا خاتمہ کرکے عورتوں کو با اختیار نہیں بنایا جاتا، صنفی تفاوت کا خاتمہ نہیں ہوتا اور علماء، صحافی، دانشور، اساتذہ اور دانشوروں سمیت سب لوگ مل کر ایسے واقعات کے خلاف آواز بلند نہیں کرتے تب تک صورتحال کی بہتری کے امکانات بہت کم رہیں گے۔

DW.COM