1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چھوٹا جوہری ہتھیار تیار کر لیا ہے، کِم یونگ اُن

شمالی کوریا کے سربراہ کِم یونگ اُن نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے ایک چھوٹا ’تھرمو نیوکلیئر وار ہیڈ‘ تیار کر لیا ہے۔ جزیرہ نما کوریا میں تناؤ کے تناظر میں شمالی کوریا جوہری ہتھیار تیار رکھنے کا اعلان بھی کر چکا ہے۔

شمالی کوریا کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کو اس حد چھوٹا کرنے میں کامیابی کا دعویٰ پہلے بھی سامنے آ چکا ہے، کہ انہیں میزائل پر نصب کیا جا سکے۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کِم یونگ اُن نے بذات خود اس کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ چیز امریکی سرزمین کے لیے شمالی کوریائی جوہری ہتھیاروں کے خطرے کے حوالے سے ایک بڑی پیشرفت ہے۔

کِم نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ جس ہتھیار کو چھوٹا کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے وہ ’تھرمو نیوکلیئر‘ ڈیوائس ہے۔ یہ دراصل شمالی کوریا کے اس دعوے کی باز گشت ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ رواں برس جنوری میں کیا جانے والا جوہری دھماکا دراصل زیادہ طاقت ور ہائیڈروجن بم کا تھا۔

شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی KCNA کے مطابق کِم یونگ اُن کا جوہری ماہرین کے ساتھ ایک دورے کے دوران کہنا تھا، ’’جوہری ہتھیاروں کو چھوٹا کر کے اس قابل بنا دیا گیا ہے کہ انہیں بیلسٹک میزائلوں پر نصب کیا جا سکے۔‘‘ شمالی کوریا کے سربراہ کے مطابق، ’’ اسے صحیح معنوں میں حریف ممالک کو جارحانہ حملوں سے باز رکھنے والی حقیقی صلاحیت کہا جا سکتا ہے۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شمالی کوریا کے ایک اخبار کے سر ورق پر ایک بڑی تصویر شائع کی گئی ہے جس میں کِم کو ایک ڈیوائس کے سامنے کھڑا دکھایا گیا ہے جس کے بارے میں بعض ماہرین کی رائے ہے کہ یہی دراصل چھوٹے سائز کا ہتھیار ہے۔

کیلیفورنیا میں قائم مڈلبری انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز (MMIS) کے ایک ماہر جیفری لوئس Jeffrey Lewis کے مطابق، ’’ظاہر ہے ہمارے پاس جانچنے کے لیے صرف تصویر ہے، لیکن یہ ایسا ہی دکھائی دیتا ہے جیسا کہ آپ ایک چھوٹے جوہری ہتھیار کے ہونے کی توقع کر سکتے ہیں۔‘‘

رواں برس جنوری میں شمالی کوریا کی طرف سے جوہری تجربے اور پھر فروری میں راکٹ تجربے کے بعد تقسیم شدہ جزیرہ نما کوریا میں فوجی تناؤ میں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے پیونگ یانگ کے ان اقدامات کا جواب گزشتہ ہفتے اس کے خلاف پابندیوں میں مزید سختی لاتے ہوئے دیا ہے۔ پیانگ یونگ کی طرف سے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے امریکی سربراہی میں کِم کی حکومت گرانے کی کوشش قرار دیا تھا۔