1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

چھاتی کے سرطان کی شکار خواتین کے لئے ایک خوش آئند خبر

سمندری اسفنج سے تیار کردہ ایک نئی دوا کے استعمال سے اس مہلک عارضے میں مبتلا خواتین کی عمروں کو کسی حد تک بڑھانے کے امکانات نظر آ ئے ہیں

default

چھاتی کا سرطان ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں خواتین کی موت کا سبب بنتا ہے

خاص طور سے بریسٹ کینسر کی مریض ایسی خواتین جن کی بیماری آخری مراحل میں تھی، ان پر بھی اس نئی دوا کے نہایت مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس دوا کا تجربہ برطانوی طبی محققین نے کیا ہے اور Eribulin نامی اس دوائی کو پہلی مرتبہ ابھی حال ہی میں امریکی شہر شکاگو میں ہونے والی ایک میڈیکل کانفرنس میں پیش کیا گیا۔ عالمی سطح پر برطانوی سائنسدانوں نے ایری بُلن نامی اس دوا کے بے ترتیب تجربات کئے ہیں۔ چھاتی کے سرطان میں مبتلا 762 خواتین کا علاج کیمو تھراپی یا پھر Eribulin کے ذریعے کرنے کے بعد ان کے زندہ بچ جانے کی شرح کا اندازہ لگایا گیا۔

Krebszelle Eierstockkrebs

خواتین کے اندر چھاتی کے سرطان کے علاوہ بیضہ دان کا کینسر بھی بہت عام ہے

اس سے پتہ چلا کہ اس نئی دوائی کے علاج سے ان 762 مریضوں میں سے 2.5 فیصد خواتین کی زندگی میں ڈھائی مہینے تک کا اضافہ ہو گیا تھا۔ برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی کے مولیکیولر میڈیسن کے شعبے سے تعلق رکھنے والے پروفیسر اور Oncology یا علم سلعیات کے ماہر Christopher Twelves ،جو اس نئی تحقیقی رپورٹ کے مصنف بھی ہیں، نے کہا ہے کہ اب تک چھاتی کے سرطان میں مبتلا ایسی خواتین کے لئے، جن کی بیماری بہت ایڈوانس اسٹیج یا مرحلے پر ہوتی ہے، کوئی ایک معیاری طریقہء علاج دریافت نہیں ہو سکا تھا۔

MR-Mammographie bei Brustkrebs am Universitätsklinikum Jena

چھاتی کے کینسر کے امکانات سے پیشگی انتباہ کے لئے میموگرافی ٹیسٹ کروانا نہایت ضروری ہے

ایری بُلن نامی اس دوائی کے تجربے کے نتائج حوصلہ افزاء ہیں۔ سمندری اسفنج سے تیار کردہ یہ دوائی ایری بُلن ایسی خواتین کو دی گئی تھی، جو ایک عرصے سے بریسٹ کینسر کے علاج کے لئے کیمو تھراپی کر وا رہی تھیں۔ ماہرین نے ان پر ریسرچ کی تو پتہ چلا کہ ایری بُلن کا استعمال کرنے والی ان خواتین کی عمروں میں ان خواتین کے مقابلے میں ڈھائی ماہ تک کا اضافہ ہوا، جو چھاتی کے کینسر جیسے مہلک مرض کے علاج کے لئے کیمو تھراپی کروا رہی تھیں۔

رپورٹ: کشور مصطفےٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM