1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

چھاتیوں کے سرطان سے تحفظ، ایک نئی امید

امریکی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایک ایسی ویکسین تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جو چوہوں میں چھاتی کے سرطان کے خلاف بہترین افادیت کی حامل ثابت ہوئی ہے، اس ویکسین کو جلد انسانوں پر بھی آزمایا جائے گا۔

default

کینسر ویکسین کےتجربے چوہوں پر کئے جا رہے ہیں

سائنسی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیقی رپورٹ میں امریکی محققین کا کہنا ہے کہ وہ اس نئی دواء کی انسانی جسم پر اثرات کا معائنہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ اس دواء کی بازار میں دستیابی میں ابھی کئی برس لگ سکتے ہیں۔

کلیولینڈ کلینک لرنر ریسرچ انسٹیٹوٹ میں اس ویکسین کی تیاری عمل میں آئی۔ اس تحقیق سے وابستہ ماہرین نے کہا ہے کہ یہ ویکسین چھاتیوں میں پائے جانے والے ایک خاص قسم کے پروٹین کو ہدف بناتی ہے۔ محققین کے مطابق یہ خاص قسم کا پروٹین چھاتیوں کے کینسر میں عموما دیکھا گیا ہے۔

اس تحقیقی ٹیم کی سربراہی کرنے والے وینسینٹ ٹوہے کا کہنا ہے : ’’ہمیں یقین یے کہ ایک دن یہ دوا بالغ خواتین میں چھاتیوں کے سرطان کے بچاؤ اور تحفظ کے لئے استعمال ہو گی بلکہ اسی طرح جیسے ادویات بچپن کی بیماریوں سے تحفظ کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اگر اس دواء نے انسانی جسم پر بھی ویسا ہی اثر کیا، جیسا مادہ چوہے پر کیا ہے، تو یہ ایک تاریخی کامیابی ہو گی اور ہم چھاتیوں کے سرطان کا جڑ سے خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘‘

Formation in pink gegen Brustkrebs in Lissabon

گلابی رنگ کینسر کے خلاف مزاحمت کا رنگ قرار دیا جاتا ہے

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس دوا کو چھاتیوں کے کینسر کے وائرسوں سے جنگ کرتے ہوئے چوہوں کے جسم میں داخل کیا گیا، جبکہ کچھ چوہوں کے جسم میں اس خاص کیمیکل کو انجیکٹ نہیں کیا۔ ان چوہوں میں، جن میں یہ دوا داخل کی گئی واضح طور پر چھاتیوں کے کینسر کے پھیلاؤ میں کمی دیکھی گئی۔

اس سے قبل امریکہ میں جگر اور سرویکل کینسر کے لئے دو مختلف ادوایات کی منظوری دی گئی تھی۔ کچھ عرصے قبل منظوری حاصل کرنے والی ادویات براہ راست کینسر کے پھیلاؤ کے خلاف عمل کرنے کی بجائے جسم میں موجود ہیپاٹاٹیس وائرس HBV اور پیپی لوما وائرس HPV کے خلاف کاروائی کرتی ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM