1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

چچا بھتیجے کی لڑائی، عامرا طلس خان پر اسکواش کھیلنے پر پابندی

جب پاکستان نے 12برس بعد اسکواش کے ایشیائی چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا تو امید ہو چلی تھی کہ اس فتح کے معمار عامر اطلس خان ملک کا کھیل میں کھویا ہوا اعلیٰ مقام جلد واپس دلا دیں گے۔ لیکن اب صورتحال تبدیل ہو گئی ہے۔

default

گزشتہ دنوں پر یک ٹیلی ویژن ٹاک شو میں جان شیر خان کے سخت ریمارکس پر عامر اطلس خان سابق عالمی چیمپئن کو کچھ برا بھلا کہہ بیٹھے، جس پر پاکستان اسکواش فیڈریشن نے عامر کے کھیلنے پر ہی پابندی لگا دی ہے۔ اس ٹی وی پروگرام نے پاکستان اسکواش کا سارا منظر نامہ بدل کے رکھ دیا ہے۔

پاکستان اسکواش فیڈریشن کے سیکریٹری عرفان اصغر نے ریڈیو ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ عامر کے خلاف کارروائی صرف اس واقعہ کو بنیاد بنا کر نہیں کی گئی بلکہ وہ عرصہ دراز سے فیڈریشن کے ضابطہ اخلاق کو پامال کرتے چلے آرہے تھی۔ 2009 میں عامر نے قومی کوچ فہیم گل کی زیر نگرانی ٹریننگ سے انکار کر دیا تھا ۔ پی ایس ایف کے بڑوں نے اسے کئی بار زبانی اور تحریری طور پر وارننگ دی مگر وہ باز نہ آئے ۔’’ عامر کے رویے کے جونیئر کھلاڑیوں پر منفی اثرات ہو رہے تھے، جس پر ہمیں مجبوراً پابندی عائد کرنا پڑی ہے‘‘۔

Sport Squash Jansher Khan

جان شیر نوجوان کھلاڑی عامر اطلس خان کے چچا ہیں

اس قضیہ کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہےکہ عامر اطلس خان جان شیر خان کے لیے کوئی غیر نہیں بلکہ انہی کے بڑے بھائی اور سابق اسکواش کھلاڑی اطلس خان کے فرزند ہیں۔عامر اطلس خان کا موقف ہے کہ انہوں نے کبھی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ ہی انہیں فیڈریشن نے کبھی زبانی یا تحریری تنبیہ کی۔ اگر ایسا ہے تو اسکا ثبوت سامنے لایا جائی۔ عامر اطلس خان کے بقول ان کے خلاف کارروائی صرف جان شیر خان کے ایما پر کی جا رہی ہے، جن سے انکی ذاتی رنجشیں ہیں اور جان شیر نیشنل کوچ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ان کے درپے رہے ہیں۔

جب اسکواش فیڈریشن کے سیکریٹری سے یہ پو چھا گیا کہ چچا بھتیجا کی اس لڑائی میں فیڈریشن کیوں ایک مستقبل کے کیریئر سے کھیلنے پر تل گئی ہے توعرفان اصغر کا کہنا تھا کہ عامر نے اپنے چچا کو نہیں قومی کوچ کے بارے میں توہین آمیز رویہ اپنایا۔’’ ہمارا مقصد کسی کا کیریئر تباہ کرنا نہیں مگر ہم نے سوچ سمجھ کر کھیل کے مفاد میں یہ فیصلہ کیا ہے ۔ ہمارے پاس کھلاڑیوں کی کمی نہیں۔ ڈسپلن کا مسئلہ بھی پاکستان اسکواش کے پیچھے رہ جانے کی ایک وجہ رہا ہے۔ اس لیے اب اس موضوع پر سمجھوتا نہیں کیا جا ئے گا اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی بڑے نام کی پرواہ کی جائے گی‘‘۔

اسکواش کے شہرہ آفاق کھلاڑی جہانگیر خان نے اس صورتحال کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ’’ اسکواش فیڈریشن کے غیر پیشہ ورانہ رویے کی وجہ سے ہمیں یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں کا خاندانی تنازع ہے۔

Jahangir Khan

جہانگیر خان نے عامر اطلس خان پر پابندی عائد کیے جانے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے

اسکواش ایک انفرادی کھیل ہے اس لیے عامر اطلس سے سہولیات تو واپس لی جا سکتی ہیں مگر انہیں عالمی مقابلوں میں حصہ لینے سے نہیں روکا جاسکتا، اس لیے پابندی لاحاصل ہے‘‘۔

ریکارڈ دس مرتبہ برٹش اوپن جیتنے والے جہانگیر خان کا کہنا تھا پاکستان اسکواش فیڈریشن میں ڈکٹیٹر شپ قائم ہے۔ فضائیہ کا ایک سربراہ جاتا ہے تو دوسرا خود بخود اس کی جگہ اس عہدے پر پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے کوئی کسی کو جواب دہ نہیں ۔ فیڈریشن نے کبھی کھلاڑیوں کے لیے ضابطہ اخلاق تیار نہیں کیا۔ پی ایس ایف کے عہدیدار کھیل سے مکمل نابلد ہیں اور اسپورٹس مین شپ کس چڑیا کا نام ہے انہیں یہ تک معلوم نہیں‘‘۔

جہانگیر خان کے مطابق ماضی میں ٹاپ ٹین میں سات پاکستانی ہوتے تھے۔ اس وقت بھی کھلاڑی اپنی محنت سے یہ مقام پاتے تھے ’’اسکواش فیڈریشن کا نہ اس وقت کوئی کردار تھا نہ آج ہے۔ اس کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

رپورٹ : طارق سعید

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس