1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چِلی میں پاکستانی شہری کی عدالت میں پیشی

چِلی میں انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت گرفتار پاکستانی شہری کو آج عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پر فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے۔

default

محمد سیف الرحمان

چلی میں دفتر استغاثہ کا کہنا ہے کہ ہفتے کو عدالت میں سیف الرحمان کے خلاف ثبوت پیش کئے جا سکتے ہیں۔ خبررساں ادارے AFP نے عدالتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ہفتے کے روز ہی رحمان پر فردجرم عائد کی جانا ضروری نہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت رحمان کو مزید پانچ روز تک فردجرم عائد کئے بغیر زیر حراست رکھا جا سکتا ہے۔

اٹھائیس سالہ سیف الرحمان کو رواں ہفتے پیر کو چلی کے دارالحکومت سانتیاگو میں اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا، جب وہ اپنی ویزا درخواست کے حوالے سے امریکی سفارت خانے گیا۔ استغاثہ کے مطابق رحمان سفارت خانے پہنچنے پر سیکیورٹی کے مرحلے سے گزرا تو اس کے ہاتھوں، موبائل فون، بیگ اور دستاویزات پر دھماکہ خیز مواد TNT کے نشانات پائے گئے۔ تب اسے انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔

Karte Chile - Erdbeben nahe Concepcion englisch

سیف الرحمان کو سانتیاگو میں امریکی سفارت خانے سے گرفتار کیا گیا

تاہم اس پر ابھی تک باقاعدہ مقدمہ قائم نہیں کیا گیا، جس پر چلی میں گرفتارشدگان کے حقوق کا تحفظ کرنے والے سرکاری ادارے نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ رحمان کو رہا کیا جائے۔ دراصل رحمان کی گرفتاری پر چلی میں ایک بحث نے جنم لیا ہے۔ بائیں بازو کی اپوزیشن جماعت نے اسے کسی الزام کے بغیر گرفتار کرنے پر سوال اٹھایا ہے۔ دوسری جانب چلی میں تعینات پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ رحمان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت دستیاب نہیں۔

اُدھر رحمان کے وکیل گیبرئیل کیرئیون نے جمعہ کو صحافیوں سے بات چیت میں ایک مرتبہ پھر کہا کہ ان کا مؤکل بے گناہ ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے مخاطب ہوئے کہا، ’رحمان بھی اپنی گرفتاری پر آپ ہی کی طرح حیران ہے۔ وہ نہیں جانتا ہے کہ اس پر دھماکہ خیز مواد کے نشان کیسے آئے۔‘

گیبرئیل نے مزید کہا کہ رحمان کی انگلیوں اور سامان پر پائے گئے نشان بہت ہی معمولی نوعیت کے تھے جو آلودگی کے شکار شہر میں رہنے والے کسی بھی فرد پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM