1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چِرنوبل کا جوہری سانحہ ، منظر پس منظر

یہ حادثہ اتنا اچانک، بڑا اورہولناک تھا کہ اِس کو دیکھ کر اُس وقت کے سویت یونین کے حکام بوکھلا اٹھے ۔ اُن سے یہ فیصلہ نہیں کیا جا رہا تھا کہ وہ کیسے اور کب لوگوں اور دنیا کو اِس حادثے کے بارے میں بتائیں۔

یوکرائن کی عورتیں چرنوبل کے حادثے کے بعد ہلاک ہونے والوں کی یاد میں شمعیں جلائے ہوئے

یوکرائن کی عورتیں چرنوبل کے حادثے کے بعد ہلاک ہونے والوں کی یاد میں شمعیں جلائے ہوئے

بیلا روس کی سرحد کے قریب یوکرائن کے شہر چرنوبل کے ایٹمی ریکٹر کا دھماکہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا جوہری حادثہ ہے۔لیکن اس وقت گویا اس واقعے پر آہنی پردہ ڈال کراس کی اصل حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی گئی لیکن آ ج بیس برس بعد بھی تابکاری اثرات کے شکار معصوم بچوں کی سسکتی ہوئی آوازوں اورسرطان جیسے مہلک امراض میں مبتلا ہزاروںافراد کی دم توڑتی ہوئی سانسوں نے ماہرین کی اس رپورٹ کاعملی ثبوت فراہم کر دیا ہے کہ جس کے تحت اس حادثے کے جان لیوا اور ماحولیاتی اثرات کئی نسلوں اور کئی صدیوں تک موجود رہیں گے۔

کہا جا رہا ہے کہ آج بیس برس گزرنے کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ جوہری پلانٹ میں دھماکے کے بعد اس کے تابکاری اثرات کو روکنے کے لئے اب تک جتنے اقداما ت بھی کئے گئے ہیںوہ زیادہ موثر ثابت نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اس مقام سے کہ جہاں تباہ شدہ ریکٹر کو مضبوط پتھروں سے چھپا دیا گیاہے ، 30 کلو میٹر پر محیط علاقے میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ چرنوبل کے قریبی علاقوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس حادثے سے کئی نسلیں متاثر ہوئی ہیں۔ اُس وقت جو لوگ کم عمر تھے ان کی قوت مدافعت کم ہوئی ہے اور وہ اپنی پچھلی دو نسلوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہیں۔

یہ حادثہ اتنا اچانک، بڑا اورہولناک تھا کہ اِس کو دیکھ کر اُس وقت کے سویت یونین کے حکام بوکھلا اٹھے ۔ اُن سے یہ فیصلہ نہیں کیا جا رہا تھا کہ وہ کیسے اور کب لوگوں اور دنیا کو اِس حادثے کے بارے میں بتائیں۔بعض حکام یہ بھی کہہ رہے تھے کہ کیا ہمیں لوگوں کو اِس خبر سے آگاہ کرنا بھی چاہیے یا نہیں؟میڈیا کو یہ لکھنے پر مجبور کیا گیا کہ یہ جوہری پلانٹ میں دھماکہ نہیں ہوا بلکہ کسی حادثے کی وجہ سے ریڈیو ایکٹو شعائیں خارج ہونا شروع ہوگئی ہیں۔

26 اپریل 1986 کو جوہری ریکٹر میں حادثے کی وجہ سے آسمان پر ریڈیوایکٹو دھویں کے گہرے بادلوں کو صاف طور پر دیکھا جا سکتا تھا لیکن 29 اپریل کو اس حادثے کے سلسلے میں پہلا سرکاری بیان جاری کیا گیا۔ اِس میں کہا گیا کہ ماحول میں کچھ آلودگی پیدا ہو گئی ہے لیکن اس کی مقدار اتنی نہیں ہے کہ لوگوں کو اس سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہو۔ بعض اطلاعات کے مطابق سویت یونین کے حکام نے قریب کے علاقوں میں تابکاری اثرات محسوس کئے جانے کے بعد ان تنصیبات میں صرف ایک جوہری حادثے کے امکان کا اعلان کیا ۔

ایک اخبار کے مطابق حکام کی مجرمانہ بزدلی کی وجہ سے تابکاری علاقے کے ہزاروں لوگ اس حادثے کا نشانہ بنے اور سپاہیوں کو حقیقت حال سے آگاہ کیے بغیر اور بغیر کسی حفاظتی انتظام کے تباہ شدہ جوہری پلانٹ کی طرف روانہ کیا گیا۔

اِس حادثے کے سلسلے میں متعدد تحقیقات کے باوجود ابھی تک اس کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے کیونکہ اب تک تحقیقاتی ٹیموں میں سے ہر ایک نے کسی نہ کسی کے زیر اثر ہونے یا دباﺅ کی وجہ سے مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ اس بات کا ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ جوہری پلانٹ میں دھماکے کی وجہ وہاں کے عملے کی طرف سے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی بنی ہے لیکن بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ بعد میں پتا چلا کہ جن قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی بات کی گئی ہے انہیں اس حادثے کے بعد قلمبند کر کے قوانین کی شکل میں سامنے لایا گیا۔ جبکہ درحقیقت جوہری ریکٹر کا اصل منصوبہ ہی ناقص تھا جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔

اس حادثے کا شکار ہونے والوں کی تعداد کے سلسلے میں بھی مختلف قسم کے اعداد و شمار بیان کیے گئے ہیں۔اقوام متحدہ نے اُس وقت 9 ہزار افراد کی ہلاکت اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی کی تصدیق کی تھی۔جبکہ ماحولیاتی ادارے Green Peace نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میںکہا ہے کہ چرنوبل کے جوہری تنصیبات میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کئی گنا یعنی 93 ہزار تک ہو سکتی ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ریڈی ایکٹو اثرات سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ۲ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ سب سے زیادہ تابکاری اثرات کی زد میں تھے انہیں سب سے کم اس حادثے کی اطلاع دی گئی۔چرنوبل سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر واقعے Pripyat شہر کے لوگ اس واقعے کے بعد بھی معمول کی زندگی گزارتے رہے یہاں تک کہ 36 گھنٹوں بعد اُن کو شہر خالی کرنے کا حکم دیا گیا اور قریب کے دیہاتوں سے بھی انخلا کا عمل کئی ہفتوں تک جاری رہا۔ یوکرائن کے دارالحکومت Kiev کے لوگوں کو 5 روز تک تو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ تابکاری اثرات کی زد میں ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آج 20برس گزرنے کے بعد بھی اس حادثے کے تابکاری اثرات کی وجہ سے لوگ Chest اور Blood کینسر کے علاوہ مختلف قسم کے سرطانوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اور پیدائش کے وقت بچوں کی اموات کے کیس سامنے آرہے ہیں۔اگرچہ اس حوالے سے تحقیق کا سلسلہ بھی جاری ہے لیکن ان تحقیقات کو منظر عام پر نہیں لایا جاتا کیونکہ ملکی حکام اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ ان بڑھتی ہوئی خوفناک بیماریوں کی وجہ چرنوبل کے جوہری پلانٹ میں 20 برس قبل ہونے والا دھماکہ ہے۔

سامعین بعض شخصیات نے چرنوبل کے واقعے کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ سیاسی رنگ دیتے ہوئے ایک ایسے نظام کو ہدف تنقید بنایا ہے کہ جو ان کے نزدیک جب تک موجود رہے گا لوگوں کو مصیبتوں اور اذیتوں میں مبتلا کرتا رہے گا اور اُن کو اُن کے حقوق سے محروم کرتا رہے گا۔بیلا روس میں یونائیٹڈ ڈیموکریٹس کے ایک سرکردہ سیاستدان Anatolij Lebedko کا کہنا ہے: ایٹمی تابکاری کی وجہ سے ابھی بھی بہت سے لوگ بیمار ہو رہے ہیں لیکن ایک قانونی چرنوبل بھی ہے جس کی ذمہ دار بیلا روس کی حکومت ہے ۔ یہ حکومت بھی لوگوں کو جان سے مارتی ہے اور ان کے حقوق کو پامال کرتی ہے۔ اسی لیے آج کے چرنوبل احتجاج کا عنوان ہم نے رکھا ہے ایٹمی اور سیاسی چرنوبل کے خلاف احتجاج۔ جب تک یہ نظام باقی رہے گا چرنوبل حادثے کے متاثرین کے مسائل بھی باقی رہیں گے۔

اگرچہ چرنوبل کا سانحہ 20 برس قبل پیش آیا تھا اور اس کے تابکاری اثرات یورپ تک پہنچے ہیں لیکن اس کے باوجود دنیا میں تیل ، گیس اور کوئلے جیسے قدرتی ذرائع کے استعمال کی وجہ سے گلوبل وارمنگ کے باعث اِن کے نعم البدل کے طور پر جوہری ایندھن کے استعمال کی طرف رجحان بڑھتا جا رہا ہے جبکہ بہت سے ماہرین ایٹمی انرجی کے استعمال کے خطرات سے مسلسل آگاہ کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے ریڈیوایکٹو شعائیں چاہے کتنی ہی معمولی مقدار میں ہوں، صحت کے لئے خطرے سے خالی نہیںہیں۔ البتہ بعض یورپی ممالک جوہری توانائی کے خطرات کی طرف زیادہ متوجہ ہیں۔ برطانیہ میں جوہری توانائی سے استفادہ کا رجحان نسبتاکم ہے جبکہ جرمنی چرنوبل کے واقعے نے جرمنی پر زیادہ دور رس اثرات مرتب کئے ۔ یہاں ماحول پرستوں کے گروپ کو تقویت ملی جو پہلے ہی ایٹمی توانائی کے خلاف تھے، تحفظ ماحول کی ایک نئی وزارت بھی وجود میں آئی ہے۔ جرمنی میں ایٹمی بجلی گھروں کو بند کرنے کا سمجھوتا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔

جرمنی میں ماحول پرستوں کے گروپ W.W.F کے ترجمان Jörn Eh Lers کا کہنا ہے :میرے خیال میں چرنوبل کے حادثے نے جرمنی میں ایٹمی توانائی کے استعمال کی حوصلہ شکنی میں ایک اضافی کردار ادا کیا ہے70 عشرے میں ایسے منصوبے موجود تھے جن کی رو سے جرمنی میں 100 سے زائد ایٹمی بجلی گھر قائم کیے جانے تھے لیکن آخر کار صرف 20 ایٹمی بجلی گھروں نے کام کرنا شروع کیا ۔ بعد میں مزید ایک کا اضافہ ہوا اور اب ایٹمی بجلی گھروں سے دستبردار ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔

اس وقت جوہری توانائی کا سب سے پیچیدہ مسئلہ فاضل ایٹمی مواد سے متعلق ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی سال کی تحقیق کے باوجود ابھی تک فاضل ایٹمی مواد سے نکلے والے تابکاری اثرات کو دفن کرنے کا کوئی تکنیکی راستہ دریافت نہیں ہوا ہے کہ جس سے انسان کی صحت و تندرستی کی ضمانت فراہم کی جا سکے۔ ایٹمی فضلہ یورینیم کو زمین سے نکالنے سے لے کر آخری مرحلے تک وجو د میں آتا رہتا ہے ۔ البتہ ہر مرحلہ میں اس کا حجم مختلف ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایٹمی توانائی سے ایسا فاضل مواد وجود میں آتا ہے کہ جس کی تابکاریت یا ریڈیوایکٹیوٹی Radioactivityسینکڑوں سال تک باقی رہتی ہے۔

جوہری توانائی کے میدان میں انہی مسائل و مشکلات کو دیکھتے ہوئے ماحولیات پرستوں کی طرف سے یہ سوال پوری شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آئندہ نسلوں کو محفوظ رکھنے کے لئے ، فاضل ایٹمی مواد کے دفن کے سلسلے میں احتیاطی تدابیر پر آنے والے غیر معمولی اخراجات کی ذمہ داری کو ن لے گا؟جب کہ دوسری طرف تمام تر علمی تحقیق کے باوجود ابھی تک نہایت طاقت ور اور فعال تابکاری اثرات پر مشتمل فاضل ایٹمی مواد کو دفن کرنے کا نہ تو کوئی مناسب طریقہ دریافت کیا جا سکا ہے نہ ہی کوئی جگہ۔