1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چونتیس جنگجو گروہ داعش کے ساتھ مل چکے ہیں، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون نے کہا ہے کہ انتہا پسند گروپ داعش کے ساتھ وفاداری کا اعلان کرنے والے جنگجو گروہوں کی تعداد چونتیس تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ رواں برس یہ تعداد مزید بڑھ جائے گی۔

Dschihad-Kämpfer im Irak

داعش (اسلامک اسٹیٹ) نے عراق اور شام کے وسیع تر علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ برس دسمبر کے وسط تک عالمی سطح پر داعش کے ساتھ اتحاد بنانے والے جنگجو گروہوں کی تعداد کم ازکم چونتیس ہو چکی ہے۔

پانچ فروری کو ایک تازہ رپورٹ کا اجراء کرتے ہوئے بان کی مون کا کہنا تھا کہ سن 2016ء کے دوران داعش کے حامی ان گروہوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ عالمی ادارے کے سربراہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ کہ داعش عالمی سلامتی کے لیے ایک ’غیر معمولی خطرہ‘ ہے۔

بان کی مون کے مطابق شام اور عراق میں فعال دہشت پسند گروہ داعش دنیا بھر میں اپنے حامیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش فلپائن، ازبکستان، پاکستان، لیبیا اور نائجیریا جیسے ممالک میں سرگرم جنگجوؤں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش میں ہے اور وہ اس مقصد میں بظاہر کامیاب نظر آ رہا ہے۔

بان کی مون نے خبردار کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو ان جنگجوؤں کی طرف سے ممکنہ حملوں سے خبردار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ داعش سے منسلک انتہا پسند گروہ مختلف ممالک جا رہے ہیں، جہاں وہ تشدد آمیز کارروائیاں سر انجام دے سکتے ہیں۔

بان کی مون کے مطابق گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران داعش نے جس طرح مغربی اور شمالی افریقہ کے علاوہ مشرق وسطیٰ، جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا میں اپنا نیٹ ورک پھیلایا ہے، وہ ایک تشویش ناک امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ مالدار دہشت گرد گروہ ہے۔

اس انتہا پسند گروہ نے عالمی پابندیوں کے باوجود سن 2015ء کے دوران آئل اور آئل پراڈکٹس کی غیر قانونی تجارت سے چار سو تا پانچ سو ملین ڈالر کمائے تھے۔

Ban Ki-moon

بان کی مون کے مطابق دہشت پسند گروہ داعش دنیا بھر میں اپنے حامیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے

عراق میں اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں واقع مختلف بینکوں کی برانچوں سے ایک بلین ڈالر کی رقوم نکالی گئی ہیں۔ اس مشن نے یہ بھی کہا ہے کہ داعش کے جنگجو اپنے زیر قبضہ علاقوں میں داخل ہونے والے ٹرکوں پر جو ٹیکس عائد کر رہے ہیں، ان سے بھی سالانہ ایک بلین ڈالر کمائے جا رہے ہیں۔

داعش (اسلامک اسٹیٹ) نے عراق اور شام کے وسیع تر علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے جب کہ وہ آہستہ آہستہ ان ممالک میں اپنی پرتشدد سرگرمیوں کو بڑھاتے ہوئے دیگر ممالک میں بھی اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش میں ہے۔ عالمی کوششوں کے باوجود یہ انتہا پسند گروہ اپنی کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔