1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چودہ سالہ لڑکی کا ریپ، بھارتی رکن پارلیمان گرفتار

بھارت میں انسانوں کی اسمگلنگ کا شکار ایک چودہ سالہ لڑکی کے مبینہ ریپ کے الزام میں ایک رکن پارلیمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں اس سیاستدان کی گرفتاری کی پولیس نے تصدیق کر دی ہے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے ہفتہ سات جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق پولیس نے تصدیق کی ہے کہ گرفتار کیے جانے والے پارلیمانی رکن کا تعلق شمالی مشرقی ریاست میگھالیا سے ہے۔

نئی دہلی: امریکی خاتون کا گینگ ریپ، چار مشتبہ افراد گرفتار

امریکی خاتون کے ساتھ دہلی میں اجتماعی زیادتی، تحقیقات شروع

بھارتی فلم ساز کو ریپ کے جرم میں سات سال کی سزائے قید

ریاستی دارالحکومت شیلونگ میں پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے رکن پارلیمان کا نام جولیئس دورپھنگ ہے، جسے کئی روز تک پولیس کی گرفت میں آنے سے بچنے کی کوششوں کے بعد بالآخر جمعہ چھ جنوری کو رات گئے نزدیکی شہر گوہاٹی سے حراست میں لے لیا گیا۔

ویویک سائیم نامی اس پولیس اہلکار نے ہفتے کے روز بتایا، ’’ملزم جولیئس کو گزشتہ شب گرفتار کر کے اس پر ایک کم عمر لڑکی کے ریپ اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔‘‘

بتایا گیا ہے کہ ملزم کی عمر 51 برس ہے اور وہ ایک ایسا سابقہ عسکریت پسند کمانڈر ہے، جو اب ریاستی قانون ساز ادارے کا رکن ہے۔ اس ملزم نے مبینہ طور پر ایک ایسی 14 سالہ لڑکی کے ساتھ دو مرتبہ جنسی زیادتی کی، جسے انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے مجرموں نے اس کے ہاتھ بیچا تھا۔

پولیس کے مطابق اس لڑکی نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ جولیئس دورپھنگ نے اسے ایک گیسٹ ہاؤس میں قید کر رکھا تھا اور اسے سات ایسے افراد نے اس منتخب عوامی نمائندے کے ہاتھ فروخت کیا، جن میں سے ایک اسی گیسٹ ہاؤس کا ایک ملازم بھی تھا۔ پولیس اہلکار ویویک سائیم نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ گیسٹ ہاؤس ریاست میگھالیا کے ایک وزیر کے بیٹے کی ملکیت ہے۔

جولیئس دورپھنگ نے 2000ء میں ایک ایسے عسکریت پسند گروپ کی بنیاد رکھی تھی، جس کا مطالبہ تھا کہ دو مقامی قبائلی گروپوں کو زیادہ حقوق دیے جائیں۔ پھر 2007ء میں دورپھنگ اور اس کے گروپ نے ہتھیار پھینک دیے تھے اور یہ عسکریت پسند رہنما عملی سیاست میں آ گیا تھا۔

میگھالیا کا شمار بھارت کی ان سات شمال مشرقی ریاستوں میں ہوتا ہے، جہاں عشروں تک کئی مسلح بغاوتیں جاری رہی ہیں، جن میں ریاست مخالف مزاحمت کرنے والے عناصر اپنے مقاصد بھارت سے علیحدگی سے لے کر قبائلی عوام کے لیے زیادہ حقوق کی جدوجہد تک بتاتے تھے۔

اے ایف پی کے مطابق بھارت میں انسانوں کی تجارت کرنے والے جرائم پیشہ افراد ہر سال غریب خاندانوں کے ہزاروں بچوں کو ملازمتوں کا جھانسہ دے کر انہیں ساتھ لے جاتے ہیں اور پھر انہیں عام گھروں یا مختلف صنعتی پیداواری اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں کے طور پر یا پھر ایسے مجرموں کے ہاتھ بیچ دیا جاتا ہے، جو ان سے زبردستی جسم فروشی کرواتے ہیں۔

DW.COM