1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چوتھی سہ ماہی میں امریکی معیشت میں بہتری

امریکی فیکٹریوں سے تیار ہو کر نکلنے والی گاڑیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور افراط زر میں کمی کے باعث عوام کی قوت خرید میں بھی بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث امریکی معیشت میں کچھ بہتری کے آثار دیکھے جا رہے ہیں۔

default

امریکی معیشت کے حالیہ اعداد و شمار نے تجزیہ کاروں کی توقعات بڑھا دی ہیں۔ بہت سوں کے خیال میں چوتھی سہ ماہی تیسری کے مقابلے میں زیادہ مضبوط رہے گی۔ تیسری سہ ماہی میں معیشت کی سالانہ شرح نمو 2.5 فیصد رہی تھی۔ اقتصادی پیش گوئی کرنے والی فرم مائیکرو اکنامک ایڈوائزرز کے خیال میں سال کے آخری تین ماہ میں شرح نمو 3.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

نیویارک میں بینک آف امریکہ میرل لنچ کی ایک ماہر اقتصادیات مِشیل میئر نے کہا، ’’اس وقت قلیل المدتی بنیادوں پر معیشت میں اتنی سکت موجود ہے، جو عالمی اقتصادی بحران کو برداشت کر سکے۔‘‘

Weihnachseinkauf in New York Toys R Us

افراط زر میں کچھ کمی کے بعد امریکی عوام کی قوت خرید میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

جولائی کے بعد گزشتہ ماہ امریکی صنعتی پیداوار میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ افراط زر میں سست روی کے باعث گھرانوں کی قوت خرید بڑھنے میں بھی مدد ملی ہے۔ مثال کے طور پر فروری کے بعد نئی گاڑیوں کی خرید میں 7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ جے ڈی پاور اینڈ ایسوسی ایٹس اور ایل ایم سی آٹو موٹیو کی ایک پیش گوئی کے مطابق نومبر میں ان کی فروخت میں مزید 8 فیصد اضافے کا امکان ہے۔

جمعرات کو جنرل موٹرز کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر ڈان ایکرسن نے ڈیٹرائٹ میں ہونے والے ایک فورم کے دوران کہا تھا، ’’کیا امریکہ یورپ کی کساد بازاری کا سامنا کر سکتا ہے؟ میرے خیال میں ہم کر سکتے ہیں۔‘‘

امریکہ میں کساد بازاری کو روکنے کی ایک حالیہ نشانی یہ ہے کہ امریکی کمپنیوں سے لوگوں کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ بیروزگاری الاؤنس حاصل کرنے کی درخواستوں میں اپریل کے بعد سے سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ آجرین بالآخر نئے افراد کو بھرتی کر رہے ہیں۔

گزشتہ سال بھی چوتھی سہ ماہی کے دوران معیشت میں بہتری کے آثار دیکھے جا رہے تھے لیکن عالمی سطح پر ہونے والی بعض اہم پیشرفتوں نے اس کی رفتار کم کر دی۔ عرب دنیا میں تبدیلی کی لہر کے نتیجے میں تیل اور اس کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا، جس سے امریکی صارفین کو نقصان پہنچا۔

اسی طرح مارچ میں جاپان میں آنے والے زلزلے کے بعد عالمی سطح پر صنعتی مصنوعات کی تیاری سست ہو گئی تھی، جس سے امریکی معیشت متاثر ہوئی۔ اس وقت یورپ کے قرض بحران کا خطرہ عالمی معیشت پر منڈلا رہا ہے اور اگر کوئی ایک بھی یورپی ملک نادہندہ ہو گیا، تو یہ بحران سنگین تر شکل اختیار کر لے گا۔

آکرسن نے کہا کہ یورپی بحران 2008ء کے عالمی مالیاتی بحران سے کہیں زیادہ سخت ہو گا۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM