چند یورپی معاشروں میں نوجوان نسل کے ضیاع کے خطرات | معاشرہ | DW | 27.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چند یورپی معاشروں میں نوجوان نسل کے ضیاع کے خطرات

یورپی یونین میں 18 سال سے کم عمر افراد کا تقریباً ایک تہائی غربت اور سماجی سطح پر امتیازی سلوک کے خطرے سے دوچار ہے۔ یہ نتیجہ نکلا ہے جرمن فاؤنڈیشن بیرٹلزمن کے ایک تازہ جائزے سے۔

بیرٹلزمن کے اس تازہ جائزے نے شمالی اور جنوبی یورپ کے مابین اس تناظر میں فرق کو مزید واضح کیا ہے۔ اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 26 ملین افراد یا کل آبادی کا 27.9 فیصد غربت میں زندگی گزار رہا ہے۔ یہ افراد مکمل طور پر معاشرے میں ضم بھی نہیں ہو سکے ہیں اور ان کے پاس انضمام کے حوالے سے شاید وسائل بھی موجود نہیں ہیں۔ آج منگل کے روز جاری کیے جانے والے سماجی انصاف یا سوشل جسٹس انڈیکس کے مطابق 20 سے 24 سال کی درمیانی عمر کے نوجوانوں کے پاس بہتر مستقبل کے مواقع بہت زیادہ نہیں ہیں اسی وجہ سے ان کے پاس کسی بڑے ادارے میں تربیت یا روزگار کے امکانات بھی قدرے محدود ہو جاتے ہیں۔

Kinder schlachten Sparschwein

بیرٹلزمن کے مطابق اس تناظر میں صرف جرمنی اور سویڈن میں صورتحال بہتر ہوئی ہے جبکہ یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک میں ان افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو غربت سے چنگل میں پھنس سکتے ہیں۔ اس جائزے میں مزید واضح کیا گیا کہ کچھ ممالک کی صورتحال میں تو نمایاں خرابی رونما ہوئی ہے۔ ان میں جنوبی یورپی ممالک اسپین، یونان، پرتگال اور اٹلی بھی شامل ہیں۔ ان ممالک میں غربت کے شکار نوجوانوں کی تعداد 1.2 ملین سے بڑھ کر 7.6 ملین ہو گئی ہے۔

اس جائزے میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم آمدنی والے گھرانوں میں پروان چڑھنے والے بچوں کے پاس اکثر مستقبل بنانے کے لیے امکانات کی ہی کمی نہیں ہوتی بلکہ ان کو مناسب آسائشیں بھی میسر نہیں ہو پاتیں۔ اس وجہ سے اس جائزے میں لکھا گیا ہے ’’ہم یورپ میں سماجی اور اقتصادی بنیادوں پر کسی نسل کے ضائع ہونے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یورپی یونین اور اس کے ارکان کو اس سلسلے میں بھرپور اور موثر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ لوگوں کو بہتر مواقع حاصل ہو سکیں‘‘۔

سوشل جسٹس انڈیکس میں 28 رکنی یورپی یونین میں 35 مختلف شعبوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔