1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چند گھنٹوں کی بارش اور لاہور کا ’نظام ٹھپ‘

پاکستان کے بہت سے علاقے آج کل مون سون کی بارشوں کی زد میں آئے ہوئے ہیں لیکن ہفتے کی صبح لاہور میں ہونے والی طوفانی بارش نے پاکستان کے دوسرے بڑے شہر میں زندگی کے روزمرہ کے معمولات کو بہت بری طرح متاثر کیا ہے۔

لاہور میں صرف ڈیڑھ گھنٹے کے دوران ایک سو گیارہ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ صبح سویرے شروع ہونے والی بارش کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔ کئی علاقوں میں بجلی کے فیڈر ٹرپ ہو جانے کی وجہ سے بجلی غائب ہے۔ کئی علاقوں سے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سروس معطل ہونے کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری اور نشتر ٹاون کا سپورٹس کمپلیکس بھی پانی کی زد میں ہے۔ چلڈرن ہسپتال کے آس پاس دو دو فٹ پانی کھڑا ہے جبکہ گنگا رام ہسپتال میں بھی پانی داخل ہو چکا ہے۔ والٹن ائیر پورٹ کے رن وے پر پانی بھر جانے کی وجہ سے تمام تربیتی اور نجی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ ہفتے کی صبح دبئی اور کویت سے آنے والے جہازوں کو موسم کی خرابی کی وجہ سے ملتان بھجوانا پڑا۔ لکشمی، ہربنس پورہ، تاجپورہ، شاہ جمال، شادباغ، سمن آباد اور کئی دیگر نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو جانے سے لوگوں کا سامان اور قیمتی فرنیچر تباہ ہو گیا ہے۔

شہر کی جدید بستیاں گلبرگ، شادمان، جوہر ٹاون، کیولری گراونڈ اور لاہور کینٹ میں بھی سڑکیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں اور جگہ جگہ گاڑیان بند ہو جانے کی وجہ سے ٹریفک جام ہے اور لوگوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔

لاہور کے ایک شہری عبدالحفیظ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے اس بارش کے نتیجے میں لوگوں کو پیش آنے والی مشکلات کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا ہے۔ سب کو ایک ہفتہ پہلے پتہ تھا کہ ان دنوں میں شدید بارشیں ہوں گی لیکن وزیر اعلیٰ اور پنجاب کی اہم حکومتی شخصیات ملک یا لاہور سے باہر ہیں اور حد یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کا ماڈل ٹاون والا سیکریٹیریٹ بھی بارش کے پانی کی زَد سے محفوظ نہیں رہ سکا۔

محمد حنیف نامی ایک اور شخص نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ لاہور شہر کا سیوریج سسٹم چار ملین لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ابتدائی طور پر بنایا گیا تھا لیکن بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر برسات میں نکاسی آب کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھائے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت کو چاہیے کہ انفراسٹرکچر کے بڑے بڑے منصوبوں کی بجائے اَربن پلاننگ کو بہتر بنائے۔

شہریوں کے بقول حالیہ بارشوں نے واسا، لیسکو، لاہور ویسٹ مینیجمنٹ اتھارٹی اور دیگر حکومتی اداروں کی کارکردگی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس وقت بھی لاہور کے کئی انڈر پاسز میں پانی کھڑا ہے۔ بعض شہریوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اس موسم میں ڈینگی کا روایتی خطرہ بھی شدت کے ساتھ سر اُٹھا سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات پنجاب کے چیف میٹرولوجسٹ محمد ریاض نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ہفتے کے روز لاہور کے علاوہ اسلام آباد، مالم جبہ، ملتان، منڈی بہاوالدین، بشام، بہاولپور، بہاول نگر، کالام اور مٹھی کے علاوہ ملک کے کئی دوسرے علاقوں میں بھی بارشیں ہوئی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہفتے کے روز لاہور میں ہونے والی بارش اس مون سون سیزن کی غیر معمولی بارشوں میں سے تھی۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ طوفانی بارشوں کا سلسلہ اگلے دو دن تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

محمد ریاض کے مطابق اگلے تین دنوں میں پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور کشمیر کے علاوہ گلگت بلتستان میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ہے۔ لیکن بعض علاقوں (خصوصاﹰ لاہور اور اس کے گرد و نواح ) میں بارشوں کی شدت غیر معمولی طور پر زیادہ ہو سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ان بارشوں کے نتیجے میں اگرچہ کسی سیلابی کیفیت کا امکان نہیں ہے لیکن برساتی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محمد ریاض نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بارشوں کا یہ سلسلہ پندرہ ستمبر کو ختم ہونے والے مون سون سیزن کے بعد تک جاری رہنے کا امکان ہے اور ان بارشوں کی وجہ سے پاکستان کے آبی ذخائر میں پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہو گئی ہے۔