1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چنئی: ہسپتال میں بجلی کی ترسیل بند ہونے کے سبب 18 مریض ہلاک

بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں بارش کے پانی کی وجہ سے ہسپتال کی ایک عمارت کے جنریٹرز کے ناکارہ ہوجانے کے نتیجے میں 18 مریض ہلاک ہو گئے ہیں۔

تامل ناڈو کے دارالحکومت چنئی کے ہسپتال میں یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے، جب یہ شہر گزشتہ ہفتے آنے والے حالیہ صدی کے شدید ترین سیلاب کی وجہ سے بُری طرح متاثر ہوا ہے۔

چنئی حکام کے مطابق ہسپتال میں مریضوں کے ہلاکت کا سبب بننے والے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے ممکنہ طور پر غفلت برتنے کے الزامات کی بھی چھان بین ہو رہی ہے۔

چنئی میں 100 سال میں ہونے والی اس شدید ترین بارش میں تقریبا 280 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد عارضی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

ہیلتھ سکریٹری جے رادھا کرشنن کے مطابق چنئی کے ہسپتال میں ہلاک ہونے والے 18 مریض انتہائی نگہداشت کے شعبے میں زیر علاج تھے۔ بارش کے پانی کی وجہ سے ہسپتال کا جنریٹر خراب ہو گیا اور انتہائی نگہداشت یونٹ کے وینٹیلیٹرز بند ہو گئے، جس کے سبب 18 مریضوں کی موت واقع ہو گئی۔

دوسری طرف فوجیوں نے چنئی کی اونچی، کئی منزلہ عمارتوں کے منہدم ہو جانے کے سبب ان کے رہائشیوں کو کشتیوں کی مدد سے باہر نکالا ہے۔ ایک وسیع ریلیف آپریشن کے تحت متاثرین کو غذا اور طبی امداد فراہم کیجا رہی ہے تاہم ہفتے کے روز تک کئی ہزار باشندے بارش کے تھمنے اور پانی کی سطح کم ہونے کا انتظار عارضی کیمپوں میں ہی کر رہے ہیں۔

چھ ملین کی آبادی والے بھارتی شہر چنئی کا ایئر پورٹ تین روز سے بند پڑا تھا تاہم ہفتے کے روز اسے جزوی طور پر کھولا گیا ہے تاکہ امدادی اشیاء کی ترسیل اور امدادی کارکنوں کی نقل و حرکت میں کچھ آسانی پیدا ہو۔

چنئی سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آج ہفتے کی صبح بارش تھمی تاہم دوپہر بارہ بجے کے قریب گھنے بادلوں، گھٹاؤں اور گرج چمک کے ساتھ دوبارہ بارش شروع ہو گئی، جس کے سبب شہری ایک بار پھر افراتفری کا شکار ہوگئے۔ بہت سے افراد نے بھاگ کر کسی قریبی شلٹر یا درخت کے نیچے پناہ لی۔ بھارت کا ساحلی شہر چنئی کے بیشتر علاقے چوتھے روز بھی قریب ڈھائی میٹر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے مسلسل جاری رہنے والی شدید بارش سے سیلابی صورت حال پیدا ہو گئی تھی اور بعض علاقوں میں دس دس فٹ سے بھی زیادہ پانی کھڑا تھا۔ جمعے کو بارش رکنے کے بعد سے شہری علاقوں میں کھڑے پانی میں کمی ہونے لگی۔ ابھی تک سات ہزار سے زیادہ افراد کو بچایا گیا ہے لیکن ابھی بھی بہت سے امداد کے منتظر ہیں۔ ابھی بھی ہزاروں گھر زیرآب ہیں اور بہت سے افراد ان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

چنئی آبادی کے اعتبار سے بھارت کا چوتھا بڑا شہر اور موٹر کار سازی اور آئی ٹی آؤٹ سورسنگ کا مرکز ہے۔ سیلاب سے متاثرہ بڑی موٹر ساز کمپنیوں جیسے کے فورڈ، ڈائملر، ہُنڈائی اور نسان نے بُدھ کو اپنے اپنے کارکنوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔