1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چمپیئنز ٹرافی شکست، پاکستان ہاکی فیڈریشن کی برطرفی کا مطالبہ

سابق پاکستانی کپتان اور شہرہ آفاق کھلاڑی منظورجونیر نے چمپیئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستان ہاکی ٹیم کی بدترین کارکردگی کو رسوا کن قرار دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار ہاکی فیڈریشن کی ’مضحکہ خیز‘ پالیسیوں کو قرار دیا ہے۔

default

ڈوئچے ویلے کو دیے گئے انٹرویو میں منظور جونیر نے ہاکی فیڈریشن پر ایڈہاک لگانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں اتوار کو ختم ہونے والے 33 ویں چیمپیئنز ٹرافی ٹورنامنٹ میں پاکستان کو تاریخ کی بدترین ساتویں پوزیشن پر اکتفا کرنا پڑا تھا، جس سے ملک میں ہاکی کے دلدادہ عام افراد کے ساتھ سابق اولمپئنز کی بھی دل آزاری ہوئی ہے۔

منظور جونیر، جو پاکستان کی اُس ٹیم میں شامل تھے، جس نے 1978ء میں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والی پہلی چمپیئنز ٹرافی کا ٹائٹل جیتا تھا کہا کہ 2010ء کے عالمی کپ کے بعد پاکستانی ٹیم نے چمپیئنز ٹرافی میں بھی تاریخ کی بدترین کارکردگی دکھائی ۔ اس سے پرانے کھلاڑیوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔ منظور جونیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے دو برس قبل پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کو پرانے کھلاڑیوں کی جگہ نئی ٹیم تشکیل دینے کا مشورہ دیا تھا، مگر کسی نے اس پر کان نہ دھرے اور فیڈریشن کی ایسی ہی لاپروایوں اورغفلت کے نتیجے میں آج ٹیم چمپیئنز ٹرافی میں جوش و جذبے سے عاری دکھائی دی۔ منظور کے بقول اب لندن اولمپکس میں بھی پاکستان کا پہلی چار ٹیموں میں آنا دیوانے کا خواب ہوگا۔

Flash-Galerie Sport Jahresrückblick 2010

گزشتہ برس ورلڈ کپ میں بھی پاکستانی ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہے

آکلینڈ چمپیئنز ٹرافی میں ایشیائی چمپیئن پاکستان کو چھ میں سے چار میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے اسپین نے چار دو، جرمنی نے پانچ صفر اورآسٹریلیا نے چھ ایک جیسے بڑے اسکور سے زیر کیا۔ جب منظور جونیر سے پوچھا گیا کہ آیا تیاریوں میں کوئی کمی رہ گئی تھی یا پاکستانی کھلاڑیوں میں بڑی ٹیموں کا سامنا کرنے کا حوصلہ ہی نہیں رہا، توماضی کے رائٹ ان کا کہنا تھا، جو ٹیم چمپیئنز ٹرافی میں انگلینڈ جیسی کمزور ٹیم سے ہار جائے اس سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔ منظور جونیر کے مطابق ٹیم کے ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی کوچ مشعل ڈین وین اس صورتحال میں برابر کے ذمہ دار ہیں، جو دو سال بعد بھی اس فیصلے پر نہیں پہنچ سکے کہ ملک میں سولہ بہترین کھلاڑی کون سے ہیں۔

منظور جونیر کا کہنا تھا کہ ہاکی فیڈریشن کی 18 اکیڈمیاں باکل غیر فعال ہیں، جس کے باعث ٹیم کو سہیل عباس، شکیل عباسی اور ریحان بٹ کے متبادل نہیں مل رہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اکیڈمیوں میں صرف منظور نظر اورنا اہل کوچز کو نوازا جا رہا ہے۔

منظور جونییر، جنہیں اپنے بین الاقوامی کیریئر میں ایک درجن گولڈ میڈل جیتنے پر گولڈن پلیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کہا کہ گز شتہ دو برس میں حکام نے پاکستان ہاکی کے کھیل کو پاتال میں پہنچا دیا ہے اور وہ اب بھی لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے تسلیوں کا ’لالی پاپ‘ دے رہے ہیں۔ منظور کے بقول کہ موجودہ ٹیم کوئی ’اندھوں‘ کا ٹورنامنٹ ہی جیت سکتی ہے۔

پاکستان کو آخری بار اپنی قیادت میں 1984ء کے لاس اینجلس اولمپکس میں طلائی تمغہ جتوانے والے کپتان منظور جونیر نے اس شکست پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سابق اولمپیئنز اورسیاستدان قاسم ضیاء کی سربراہی میں کام کرنے والی پاکستان ہاکی فیڈریشن کو برطرف کر دے۔

جونیر نے وزیر اعظم پاکستان سے، جو ملک میں ہاکی کے پیٹرن ان چیف ہیں، اپیل کی کہ وہ فیڈریشن پر ایڈہاک لگا کرآکلینڈ چیمپیئنز ٹرافی اور دہلی ورلڈکپ کی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیں تاکہ ذمہ داروں کا ہر طرح کا احتساب ہو سکے۔

رپورٹ: طارق سعید

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM