1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چمن سرحد پر بھی سختی، پاک افغان تاجر پریشان

کئی دہائیوں تک پاکستانی اور افغان تاجر چمن کی سرحدکو آسانی کے ساتھ پار کرتے رہے ہیں۔ تاہم اسلام آباد کی جانب سے سرحدی نگرانی کے اچانک فیصلے نے اس دو طرفہ تجارت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

چمن صوبہ بلوچستان میں افغان سرحد کے قریب واقع ہے۔ چمن طورخم کے بعد افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی دو اہم گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ چمن سرحد پر نگرانی کے لیے باقاعدہ کسی کے موجود نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تاجر اور شہری نوآبادیاتی دور کی تقریباً ڈھائی ہزار کلومیٹر طویل متنازعہ ڈیورنڈ لائن آسانی سے پار کرتے رہتے تھے۔ تاہم پاکستان کی جانب سے سرحدوں پر چیکنگ کو سخت کیے جانے کے بعد سے چمن کے ’’دوستی دروازے‘‘ پر ٹرکوں اور شہریوں کی قطاریں لگ گئیں۔

اب تاجروں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ انہیں تو یہ سرحد پار کرنے میں ہفتے لگے اور اس دوران اشیاء کی ایک بڑی تعداد ضائع ہو گئی۔ فضل کرم نامی تاجر کی شکایت ہے،’’میرا ٹرک گزشتہ پندرہ سولہ دنوں سے سرحد پر کھڑا ہے۔‘‘ وہ بھوسے اور چارے کی تجارت کرتے ہیں۔ سرحد کے ساتھ ساتھ ایک سرنگ بھی کھودی جا رہی ہے تاکہ کوئی غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے کی کوشش نہ کرے۔

ستمبر میں چمن سرحد پر ایک الیکٹرانک نظام متعارف کرایا گیا تھا جبکہ حکومت نے گزشتہ برس جون میں ہی سرحد پر چوکیوں اور باڑ لگانے کا عندیہ دے دیا تھا۔ پاکستان کے اس منصوبے پر افغان حکام کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔

اسی طرح طورخم کی سرحد پر بھی سختی کر دی گئی ہے۔ پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ شدت پسندوں کو روکنے اور کسٹم محصولات کو بڑھانے کے لیے یہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ حکام کا اندازہ ہے کہ غیر قانونی تجارت کی وجہ سے کسٹم ڈیوٹی کی مد میں حکومت کو ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ افغانستان پاکستان سے بنیادی ضروریات کی چیزیں جیسے دودھ، جوس اور گھریلو اشیا درآمد کرتا ہے جبکہ وہاں سے زیادہ تر پھل برآمد کیے جاتے ہیں۔