1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چمن بارڈر کراسنگ کھولنے کا فیصلہ

پاک افغان سرحد پرافغان شہریوں کے ہاتھوں پاکستانی پرچم کو نذر آتش کیے جانے کے بعد سے چمن کا سرحدی راستہ مکمل طور پر بند کردیا گیا تھا۔ تیرہ روز بعد اب چمن سرحد پر قائم ’دوستی گیٹ‘ کو کھولنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے مابین چمن بارڈر پر گزشتہ دو ہفتوں سے ہر طرح کی آمد و رفت بند تھی۔ سرحد بند ہونے کے باعث افغانستان کے جنوب مغربی علاقوں میں نیٹو افواج کے لیے سامان کی سپلائی، جو کہ اسی روٹ سے ہوتی ہے، بھی معطّل تھی۔

بلوچستان میں نیم فوجی دستوں پر مشتمل فرنٹیئر کور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے تیرہ روز بعد چمن بارڈر کو رواں ہفتے جمعرات کے روز کھول دیا جائے گا۔

کوئٹہ میں تعینات وزارت داخلہ کے ایک سینیئر اہلکار نوید الیاس نے سرحد بندش کے بعد ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا، ’’اٹھارہ اگست کو پاکستان کے خلاف ایک منظم سازش کے تحت افغان سرزمین پر احتجاج کیا گیا۔ اس احتجاج کے دوران افغان شہریوں نے نہ صرف پاکستانی پرچم نذر آتش کیے بلکہ پاک دوستی گیٹ پر افغان فورسز کی موجودگی میں پھتراؤ بھی کیا گیا۔ اس پتھراؤ سے دوستی گیٹ کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پاکستان نے بطور احتجاج بارڈر کو سیل کیا تھا۔‘‘

افغان حکام کا موقف تھا کہ 14 اگست کو پاکستان میں جشن آزادی کے موقع پر پاکستانی شہریوں نے افغان صدر اشرف غنی کے پوسٹرز کو نذر آتش کیا تھا۔ اسی لیے افغانستان کے یوم استقلال کے موقع پر افغان شہریوں نے بارڈر پر احتجاج کیا اور پاکستان کے خلاف نعرے لگائے۔

پاک افغان دوستی گیٹ کی بندش سے سرحدی علاقے سے دونوں ممالک کے درمیان سفر کرنے والے شہریوں اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی گاڑیاں بھی سینکڑوں کی تعداد میں سرحد کی دونوں اطراف میں کھڑی ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں روپے مالیت کا کھانے پینے کا سامان خراب ہو رہا ہے۔

نیوز ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق چمن بارڈر کا شمار پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر قائم دو بڑی بارڈر کراسنگ میں ہوتا ہے۔ اس سرحد پر قائم ’پاک دوستی گیٹ‘ کے ذریعے ہزاروں افراد سرحد پار ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے ہیں اور اس گیٹ کے ذریعے بڑے پیمانے پر تجارت بھی کی جاتی ہے۔

ایف سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آج دونوں ممالک کی جانب سے کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں اس سرحدی کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

DW.COM