1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چلی کے کان کن خوشیوں کے سفر پر نکل پڑے

چلی کے صدر سیباستیان پنیرا نے زمین کی قید سے رہا ہونے والے کان کنوں سے ہسپتال میں ملاقات کی ہے۔ ان میں سے تین کان کنوں کو ہسپتال سے گھر جانے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

default

کان کن صدر سیباستیان پنیرا کے ساتھ

امریکی صدر باراک اوباما نے بھی چلی میں اپنے ہم منصب سیباستیان پنیرا سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔ اس دوران انہوں نے کان کنوں کے معجزانہ بچاؤ پر چلی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی۔

Chile Minenunglück Rettungsarbeiten

زیرزمین پھنسے کان کنوں کو ‌خصوصی کیپسول کے ذریعے سطح زمین پر کھینچا گیا

حکام نے ہسپتال سے چھٹی پانے والے کان کنوں کے نام ظاہر نہیں کئے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ تمام افراد بخیریت ہیں اور ان میں سے بیشتر کو جمعہ تک گھر بھیج دیا جائے گا۔

اُدھر Copiapo ہسپتال کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں ڈپٹی میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر خورقے مونتیس نے کہا کہ گھر لوٹنے والے کان کنوں کو جسمانی سرگرمیوں کی اجازت ہو گی تاہم بہت زیادہ روشنی کا سامنا کرنے پر انہیں دھوپ کے چشموں کا استعمال کرنا ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کان کنوں کی نفسیاتی حالت کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ دوسری جانب حکام نے کہا ہے کہ جمعرات کو گھر لوٹنے والے کان کنوں کے نام ان کی پرائیویسی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ظاہر نہیں کئے جا رہے۔ بعض کان کنوں کی ڈینٹل سرجری کی گئی ہے جبکہ دو سانس کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔

قبل ازیں چلی کے صدر سیباستیان پنیرا نے ہسپتال میں ان کان کنوں سے ملاقات کی۔ ہسپتال کے دورے کے موقع پر صدر پنیرا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چلی کے کسی بھی شہری کو ’ایسے غیرانسانی حالات‘ میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Chile Rettung Bergleute Manuel Gonzelez letzte Retter NO FLASH

کان کنوں کو سطح زمین پر لانے کے بعد زیرزمیں موجود آخری امدادی کارکن اوپر آنے کی تیاری کر رہا ہے

کان کنوں سے صدر کی ملاقات انتہائی دوستانہ ماحول میں ہوئی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ان تمام کان کنوں پر مشتمل فٹ بال ٹیموں کے درمیان میچ منعقد کیا جائے گا۔

صدر پنیرا نے کان کنوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ’کیا آپ یہ چیلنج قبول کرتے ہیں اور آپ کو بحالی میں کتنا وقت لگے گا؟‘

انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، ’آپ ٹیکینکل ٹیم کا حصہ ہیں اور آپ کو فری کِک نہیں ملے گی‘۔

صدر کی اس بات پر سب نے قہقہ لگایا۔ صدر نے کان کنوں کو 25 اکتوبر کو اپنی سرکاری رہائش گاہ پر بھی مدعو کیا۔

Chile Minenunglück Rettungsarbeiten

چلی کے وزیر کان کنی لارنس گولبورن حتمی ریسکیو آپریشن کا جائزہ لے رہے ہیں

یہ 33 کان کن سان خوسے میں سونے اور تانبے کی ایک کان میں کام کر رہے تھے، جب پانچ اگست کو ایک حادثے کے نتیجے میں وہ وہاں پھنس کر رہ گئے۔ ان کے زندہ ہونے کا علم حادثے کے 17 دِن بعد ہوا۔ پھر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، جس میں اہم پیش رفت گزشتہ ہفتہ کو اس وقت ہوئی، جب انہیں نکالنے کے لئے زمین میں کیا جانے وال سوراخ وہاں تک پہنچ گیا، جہاں کان کنوں نے پناہ لے رکھی تھی۔

حتمی ریسکیو آپریشن منگل کو رات گئے شروع ہوا، جس میں ایک مخصوص کیپسول کے ذریعے کان کنوں کو باری باری سطح زمین پر کھینچا گیا۔ یہ ڈرامائی آپریشن 22 گھنٹے جاری رہا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس