چلی میں بچوں کے ’سرپرائز ایگز’ پر پابندی | صحت | DW | 29.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

چلی میں بچوں کے ’سرپرائز ایگز’ پر پابندی

جنوبی امریکی ملک چلی میں بچوں میں موٹاپے کے بڑھتے رجحان کے پیش نظر فیرارو کمپنی کی جانب سے بنائی جانے والی چاکلیٹ ’ سرپرائز ایگز‘ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

Überraschungseier von Ferrero

یہ چاکلیٹ انڈے کی شکل کی ہوتی ہے جسے دو حصوں میں آرام سے کھولا جا سکتا ہے اور اس کے اندر ایک پلاسٹک کی کیپسول نما چیز میں کوئی چھوٹا سا کھلونا بند ہوتا ہے

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق چلی میں ہر دس میں سے پانچ بچے موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ ہر تین میں سے ایک بچہ اپنی عمر اور قد کے لحاظ سے اوور ویٹ یا اوسط وزن سے زیادہ کا حامل ہے۔ اس انڈے کی شکل کی چاکلیٹ میں بچوں کے لیے پلاسٹک کا کوسی چھوٹا سا کھلونا، کوئی تصویر یا چھوٹی سا کوسی فِگر یا مورت وغیرہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے بچے اس چاکلیٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔ چلی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس چاکلیٹ میں چینی اور چکنائی کی انتہائی زیادہ مقدار شامل ہوتی ہے۔

چلی میں انتظامیہ نے صحت کے حوالے سے نئے قوانین نے عالمی فاسٹ فوڈ چین ’مکڈولنڈز’ کو بھی بچوں کے لیے بنائے جانے والے ’ہیپی میل‘ میں نمک، چینی اور چکنائی کی مقدار کو کم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

چلی میں کنڈر ایگز جنہیں عام طور پر ’سرپرائز ایگز’ کہا جاتا ہے پر لگنے والی پابندی سے بچے بہت مایوس ہوئے ہیں۔ چلی کے دس سالہ بچے پابلو آرایا کا کہنا ہے،‘‘ میں کنڈر ایگز میں سے گاڑیاں جمع کرتا تھا، مجھے کنڈر ایگز بہت پسند ہیں مگر اب میں انہیں خرید نہیں پاؤں گا۔‘‘ ورلڈ ہیلتھ آرگینائزیشن ( ڈبلیو ایچ او) کی نمائندہ پالوما کوشی کہتی ہیں کہ چلی کی حکومت کی جانب سے یہ ایک بہت ہی اہم اور ٹھوس قانون ہے جو ڈبلیو ایچ او کی تجاویز کے مطابق ہے۔

Überraschungseier von Ferrero

چلی میں کنڈر ایگز جنہیں عام طور پر ’سرپرائز ایگز’ کہا جاتا ہے پر لگنے والی پابندی سے بچے بہت مایوس ہوئے ہیں۔

امریکا میں بھی موٹاپے کے مسائل ہیں اور وہاں بھی کنڈر ایگز پر پابندی عائد ہے لیکن چینی اور چکنائی کی زیادہ مقدار کی وجہ سے نہیں بلکہ اس قانون کے تحت جس میں کھانے پینے کی اشیا میں کسی دوسری یا مصنوعی شے کی ملاوٹ پر پابندی عائد ہے۔ تاہم ناقدین کی رائے میں امریکا میں چالکیٹ کنڈر ایگز پر تو پابندی عائد ہے لیکن اس ملک میں ہر کوئی اسلحہ رکھ سکتا ہے۔

سن 2012 میں امریکی ریاست کنیکٹیکٹ کے علاقے نیو ٹاؤن میں ایک شخص نےسینڈی ہوک ایلیمنٹری اسکول میں 20 بچوں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد ایک غیر سرکاری تنظیم نے ایک مہم کا آغاز کیا تھا جس میں اسلحے کے حصول پر باندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ کنڈر ایگز پر نہیں بلکہ اسلحے پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔

'سرپرائز ایگز‘ کے حوالے سے ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ اس چاکلیٹ میں موجود کھلونوں کو چھوٹے بچے نگلنے کی کوشش میں اپنے خلق میں پھنسا سکتے ہیں۔ یہ چاکلیٹ انڈے کی شکل کی ہوتی ہے جسے دو حصوں میں آرام سے کھولا جا سکتا ہے اور اس کے اندر ایک پلاسٹک کی کیپسول نما چیز میں کوئی چھوٹا سا کھلونا بند ہوتا ہے، جس کے چھوٹے چھوٹے پرزے اور ٹکڑے علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں۔ ان ٹکڑوں کو جوڑ کر بچے کوئی کھلونا یا فِگر وغیرہ بنا کر بہت خوش ہوتے ہیں اور یہی سرپرائز اس چاکلیٹ کی شہرت کا سبب بھی ہے۔

DW.COM