1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چلی میں اب تک 15کان کنوں کو باہر نکال لیا گیا

چلی میں سان خوزے میں پھنسے ہوئے کان کنوں کو باہر نکالنے کا سلسلہ جاری ہے اور امید ہے کہ ا اگلے دو دنوں کے دوران کان میں پھنسے ہوئے تمام 33افراد کو باہر نکال لیا جائے گا۔

default

چلی میں33 کان کنوں نے جس طرح پچھلے انہتر دن گزارے ہیں، ان کا صرف تصور کر کے ہی دل دہل جاتا ہے۔ بے شک ان کا بچانے کی کوششیں جاری تھیں لیکن زمین کے سات سو فٹ نیچے دبے رہنا، ایک خوف سے کم نہیں ہے۔ بہرحال گزشتہ شب سے اب تک 15 کان کنوں کو زندگی کی رونقیں دوبارہ دیکھنے کا موقع مل چکا ہے۔

پانچ اگست کو، جس وقت چلی کے شمال میں سان خوزے کی کان میں یہ حادثہ پیش آیا تو، توکسی کو بھی امید نہیں تھی کہ یہ 33 کان کن زندہ ہوں گے۔ تقریباً دو ہفتوں بعد ان سے پہلا رابطہ ہوا۔

Chile Bergleute Bergarbeiter Rettung FLASH-Galerie

چلی کے عوام اور حکومت نے جس اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی

پھر دنیا بھرکے ذرائع ابلاغ کی توجہ چلی کے اٹاکاما صحرا کی جانب مبذول ہوگئی اورکان کنی کے اس مشکل ترین امتحان کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ شروع ہو گئی۔ جب گزشتہ روز پہلے کان کن کو زمین میں 622 میٹر نیچے سے نکالا گیا تو سان خوزے کان کے ارد گرد کی فضا نعروں اور تالیوں سے گونج اٹھی۔

گزشتہ شب مقامی وقت کے مطابق رات ایک بج کر دس منٹ پر فینکس نامی کیپسول کے ذریعے پہلے کان کن کو باہر لایا گیا۔ جیسے ہی فلورینسیو آوالوس سیاہ رنگ کا چشمہ لگائے ہوئے چلی کے پرچم کے رنگ کےاس کیپسول سے باہر آئے تو وہاں پر موجود افراد کے ساتھ ساتھ چلی کے صدر سیباسٹیان پینیرا اوران کی اہلیہ کے آنکھیں بھی نم تھیں۔

اس دوران ٹیلی وژن اسکرین پر انتہائی جذباتی مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

Chile Bergung Rettung der Minenarbeiter

اس دوران ٹیلی وژن اسکرین پر انتہائی جذباتی مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں

تاہم ایک بات پر تمام حلقے متفق ہیں کہ اس بحران کے دوران چلی کے عوام اور حکومت نے جس اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ صدر، وزیرکان کنی اور دیگر حکومتی شخصیات اس موقع پر اٹاکاما کے صحرا میں موجود تھے۔ دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب نیک تمناؤں کے پیغامات ارسال کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب تک اس کام کو دس گھنٹوں سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے اور پندرہ کان کنوں کو باہر نکالا جا چکا ہے۔ ہرمرتبہ وہاں موجود افراد سونے اور تانبے کی اس کان سے دوبارہ جنم لینے والوں کا اسی طرح تالیاں بجا کر استقبال کر رہے ہیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: عصمت جبین

DW.COM

ویب لنکس