1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چلی: تاریخی ریسکیو آپریشن کامیابی سے جاری

چلی میں کان میں پھنسے 33 کان کنوں کو باہر نکالنے کا تاریخی ریسکیو آپریشن شروع ہو گیا ہے۔ فوئنکس نامی کیپسول کی مدد سے انہتر دنوں سے دو ہزارفٹ زیر زمین پھنسے ہوئے کان کنوں ایک ایک کر کے نکالنا شروع کر دیا گیا ہے۔

default

میزائل نما امدادی کیپسول

جیسے ہی پہلا کان کن فلورینسیو ایوالوس واپس سطحِ زمین پر پہنچا تو وہاں موجود لوگوں نے خوشی کے نعرے بلند کئے جبکہ کچھ لوگوں کی آنکھوں سے تو خوشی کے آنسو نکل پڑے۔ یہ جذباتی مناظر دُنیا کے مختلف ٹی وی چینلز پر براہ راست دکھائے جا رہے ہیں۔

یہ ریسکیو آپریشن مقررہ وقت سے قریب تین گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا۔ سب سے پہلے ایک امدادی کارکن Manuel Gonzalez اس کیپسول کی مدد سے کان کنوں تک پہنچے تو کان کنوں نے گلے مل مل کر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ مانوئیل گونزالیس نے کان کنوں کو بتایا کہ جب انہیں اس کیسپول کی مدد سے واپس سطح زمین پر لے جایا جا رہا ہو گا تو انہیں کیا کیا حفاظتی اقدامات کرنا ہوں گے۔ گونزالیس سترہ منٹ کی مسافت کے بعد ریسکیو آپریشن کے لئے خصوصی طور پر بنائی گئی ایک سرنگ کے ذریعے کان کنوں تک پہنچے۔

اس میزائل نما امدادی کیپسول میں آکسیجن کے ماسک بھی موجود ہیں۔ گونزالیس کان کنوں کو اس کیپسول میں داخل کروانے میں مدد کریں گے اور انہیں گائیڈ کرتے رہیں گے کہ انہوں نے کیا کیا کرنا ہے۔

اس آپریشن کی تمام تر تفصیلات براہ راست دکھائی جا رہی ہیں۔ اس وقت شمالی شہر کاپیاپو میں واقع حادثے کا شکار ہونے والی سان خوسے کان کے گرد لوگوں کا ایک ہجوم جمع ہے، جن میں چلی کے صدر Sebastian Pinera بھی شامل ہیں۔ کان کے قریب ہی ایک بڑی سکرین نصب کی گئی ہے، جہاں اس آپریشن کی کارروائی براہ راست دکھائی جا رہی ہے۔ کان کنوں کے رشتہ دار اور صحافیوں کی ایک بڑی تعداد اس آپریشن کو بڑی باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔

Chile / Rettung / Bergleute

کیپسول کے لئے بنائی گئی خصوصی سرنگ

ایک اندازے کے مطابق تمام کان کنوں کو واپس زمین پر لانے کے لئے اڑتالیس گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ جیسے ہی یہ کان کن ایک ایک کر کے زمین پر لائے جائیں گے تو وہاں تعمیر کئے گئے ایک عارضی ہسپتال میں ان کا ابتدائی طبی معائنہ کیا جائے گا، بعد ازاں وہ اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کو دیکھ سکیں گے اور پھر انہیں باقاعدہ ہسپتال پہنچا دیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ کم ازکم چوبیس گھنٹے تک وہ ہسپتال میں ہی زیر معائنہ رہیں گے اور پھر انہیں اپنے اپنے گھروں کو جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امجد علی

DW.COM