چرچ حملے کے بعد پاکستان میں سکیورٹی ہائی الرٹ | حالات حاضرہ | DW | 18.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چرچ حملے کے بعد پاکستان میں سکیورٹی ہائی الرٹ

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز ملک بھر میں ہائی الرٹ ہیں۔ یہ اعلان پاکستانی شہر کوئٹہ میں اتوار کے روز ہونے والے ایک چرچ پر کیے جانے والے دہشت گردانہ حملے بعد سامنے آیا ہے۔ اس حملے میں نو افراد ہلاک ہوئے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اتوار 17 دسمبر کو کیے جانے والے اس خودکش دہشت گردانہ حملے میں 60 دیگر ایسے افراد زخمی بھی ہوئے جو چرچ میں ہونے والی دعائیہ تقریب میں شریک تھے۔ پاکستان کے کسی چرچ پر ہونے والا یہ پہلا ایسا دہشت گردانہ حملہ تھا جس کی ذمہ داری دہشت گرد گروپ داعش نے قبول کی ہے۔

بلوچستان پولیس کے سربراہ معظم انصاری نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز ان افراد کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جنہوں نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق جس وقت چرچ پر خودکش جیکٹیں پہنے والے دو مسلح افراد نے حملہ کیا تو اُس وقت قریب 400 مسیحی چرچ میں اتوار کے روز ہونے والی عبادت میں شریک تھے۔ پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک حملہ آور ہلاک ہو گیا جب کہ دوسرا چرچ کے اندر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور اس نے عبادت میں مصروف لوگوں پر فائرنگ کی اور خود کو وہاں دھماکے سے اڑا لیا۔

بعد ازاں داعش کی نیوز ایجنسی عماق کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس کے دو جنگجو چرچ میں داخل ہوئے۔ تاہم اس سلسلے میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

Pakistan Anschlag auf Kirche in Quetta

جس وقت چرچ پر خودکش جیکٹیں پہنے والے دو مسلح افراد نے حملہ کیا تو اُس وقت قریب 400 مسیحی چرچ میں اتوار کے روز ہونے والی عبادت میں شریک تھے

پاکستان کی طرف سے ملک میں دہشت گرد گروپ داعش کی موجودگی کو یہ کہتے ہوئے تسلیم نہیں کیا جاتا کہ ملک میں اس تنظیم کو کوئی باقاعدہ نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔

2013ء میں پاکستانی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے ایک چرچ پر خودکش حملے میں 85 افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ مارچ 2015ء میں دو خودکش حملہ آوروں نے دو چرچوں پر حملے کیے جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہوئے۔