1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چرنوبل ایٹمی حادثے کے پچیس برس، خصوصی تقریبات میں روسی صدر بھی شامل

یوکرائن میں چرنوبل جوہری پلانٹ کے حادثے کو ٹھیک پچیس برس مکمل ہونے پر روس اور یوکرائن کے رہنماؤں نے آج چرنوبل ایٹمی ری ایکٹر کا تاریخی دورہ کیا۔

default

روسی صدر دیمتری میدویدف نے بطور روسی صدر پہلی مرتبہ تباہ شدہ چرنوبل ایٹمی ری ایکٹر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر یوکرائن کے صدر وکٹور یانکووچ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ چرنوبل ایٹمی حادثے کے نتیجے میں کئی ملین انسان متاثر ہوئے اور متاثرہ علاقے میں اس کے اثرات ابھی تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ چرنوبل حادثے کی پچیس سالہ خصوصی تقریب کے موقع پر دونوں رہنماؤں نے ایٹمی توانائی کے حصول کے طریقوں میں سلامتی کےضوابط کو سخت بنانے پر زور دیا۔

یوکرائن کے صدر نے کہا،’ ہم ایک بڑے سانحے کی یاد منا رہے ہیں۔ پچیس برس کا عرصہ بیت چکا ہے اور اب ہمیں بخوبی احساس ہو چکا ہے کہ ایٹمی حادثے کے اثرات دور رس ہوتے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا یہ سمجھ چکی ہے کہ ایک ملک اپنے طور پر اس طرح کے حادثات سے نہیں نمٹ سکتا۔

Gedenken 2011 Katastrophe von Tschernobyl Flash-Galerie

چرنوبل ایٹمی ری ایکٹر میں حادثہ چھبیس اپریل 1986ء کو رونما ہوا تھا

چرنوبل حادثے کی پچیس سالہ تقریبات کو عالمی سطح پر اس لیے بھی خصوصی توجہ حاصل ہو رہی ہے کیونکہ جاپان میں فوکو شیما ایٹمی ری ایکٹر کے حالیہ حادثے نے ایٹمی توانائی سے متعلق خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔ روسی صدر دیمتری میدویدف نے اس موقع پر اعلان کیا کہ ماسکو حکومت ایٹمی تحفظ کے ایک معاہدے کو متعارف کروانے کی کوشش کرے گی تاکہ مستقبل میں چرنوبل اور فوکو شیما جیسے حادثات دوبارہ رونما نہ ہوں۔

چرنوبل ایٹمی حادثے کی یاد میں تقریبات کا آغاز یوکرائن کے مقامی وقت کے مطابق صبح ایک بج کر 23 منٹ پر ہوا۔ چرنوبل ری ایکٹر نمبر چار میں دھماکوں کا سلسلہ پچیس برس قبل اِسی وقت شروع ہوا تھا۔ آج عین اِسی وقت یوکرائن کے دارالحکومت کے علاقے میں ایک مذہبی سروس منعقد کی گئی، جس کی قیادت روسی آرتھوڈاکس چرچ کے سربراہ کیریل نے گرجا گھر کی گھنٹیاں بجاتے ہوئے کی۔

چرنوبل کےمتاثرہ ری ایکٹر سے ابھی تک تابکاری شعاعیں خارج ہو رہی ہیں۔ اب کنکریٹ کا ایک نیا خول تیار کیا جا رہا ہے، جسے اگلے برسوں کے اندر اِس ری ایکٹر پر چڑھا دیا جائے گا۔ اِس پر مجموعی طور پر 740 ملین یورو لاگت آئے گی تاہم گزشتہ ہفتے ایک ڈونرز کانفرنس میں ابھی 550 ملین یورو فراہم کرنے کے وعدے کیے گئے ہیں۔

Gedenken 2011 Katastrophe von Tschernobyl Flash-Galerie

چرنوبل ایٹمی ری ایکٹر میں ہونے والے حادثے کی اثرات ابھی تک دیکھے جا رہے ہیں

چرنوبل حادثے کے پچیس برس مکمل ہونے پر جرمنی سمیت یورپ کے کئی ممالک میں ہزاروں افراد نے پر امن احتجاج میں مطالبہ کیا کہ ایٹمی توانائی کے حصول کا سلسلہ بند کر دیا جائے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس