1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چترال میں برفانی تودہ گرنے سے تیرہ افراد ہلاک

شمالی پاکستان میں شدید برفباری کے بعد کئی مکانات کے ایک بہت بڑے برفانی تودے تلے دب جانے کے نتیجے میں کم از کم تیرہ افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ سانحہ وادی چترال میں اسی نام کے شہر میں ہفتہ چار فروری کو رات گئے پیش آیا۔

پاکستان صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے اتوار پانچ فروری کی صبح ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ اس شمالی پاکستانی شہر میں مسلسل برفباری کے بعد ایک پہاڑ سے ایک بہت بڑا برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں ایک رہائشی علاقے کے کم از کم پانچ مکانات پوری طرح برف کے نیچے دب گئے تھے اور مرنے والے 13 افراد انہیں گھروں کے رہائشی تھے۔

پی آئی اے کا ایک مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ، تلاش شروع

زلزلہ متاثرین کی کسمپرسی، تیسری رات بھی گزر گئی

چترال میں تین لاکھ شہری سیلابی پانی میں محصور

چترال اسکاؤٹس نامی سکیورٹی فورس کے کمانڈر نظام شاہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ برف کے نیچے دفن ہو جانے والے گھروں سے تیرہ افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ برف تلے دبے اور ممکنہ طور پر ابھی تک زندہ دیگر افراد کو، جن کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا، بچانے کے لیے امدادی کارروائیاں اتوار کی صبح تک جاری تھیں۔

چترال اسکاؤٹس کے کمانڈر کے مطابق اس بہت بڑے برفانی تودے کے گرنے کے نتیجے میں متعدد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں اور ریسکیو کارکن اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وادی چترال کے زیادہ تر علاقے اس وقت برف سے ڈھکے ہوئے ہیں۔

Flash-Galerie Gletscher Baltoro Pakistan (cc-by-sa/Guilhem Vellut)

پاکستان کے سبھی برفانی پہاڑی علاقے اور گلیشیئر ملک کے شمال میں واقع ہیں

پاکستان کے انتہائی خوبصورت شمالی پہاڑی علاقوں میں بہت زیادہ نئی برفباری کے نتیجے میں پہاڑوں سے بڑے بڑے برفانی تودوں کا پھسلنا اور اس وجہ سے عوامی آمد و رفت کے راستوں کا بند ہو جانا یا رہائشی علاقوں کا متاثر ہونا اکثر دیکھنے میں آتا ہے۔

پاکستان کے زیادہ تر گلیشیئر بھی اسی شمالی علاقے میں واقع ہیں۔ یہی گلیشیئر پاکستان میں زمین کی سطح پر دستیاب اس پانی کا اہم ترین ذریعہ بھی ہیں، جو ملکی زرعی اور صنعتی شعبے کی انتہائی اہم ضروریات پوری کرتا ہے۔

DW.COM