1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چاڈ میں لڑائی تھم گئی

لیبیا کے صدر معمر قذافی کی مداخلت کے بعد چاڈ میں باغیوں نے فائر بندی کرتے ہوئے حکومت سے مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔

default

وسطی افریقہ کے ملک چاڈ میں حکومتی دستوں اور باغیوں کے درمیان کل سے شروع ہونے والی لڑائی رک گئی ہے۔ باغی دارلحکومت جامینا کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے تھے۔ فریقین کے درمیان فائر بنیدی لیبیا کے صدر معمر قذافی کی مداخلت کے بعد ممکن ہو سکی اور باغیوں کے رہنما مہامت نوری نے حکومت سے مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ یہ مذاکرات کب اور کہاں ہونگے اس بارے میں ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔

اس سے قبل باغیوں نے دارلحکومت میں صدارتی محل کی جانب پیش قدمی شروع کر دی تھی جبکہ فوجی دستے ان کو پیچھے دھکیلنے کی کوششیں کر رہے تھے۔ ان جھڑپوں میں دونوں جانب سے بھاری ہتھیار استعمال کئے گئے۔ ذرائع کے مطابق دارلحکومت میں موجود دو ہزار فرانسیسی فوجییوں نے ہفتے سے شروع ہونے والی ان جھڑپوں میں حصہ نہیں لیا۔

باغیوں نے صدر Deby کو دھمکی دی ہے کہ اگر باغی گروپ کو اقتدار میں شریک نہیں کیا گیا تو وہ حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔ افریقی یونین نے باغیوں کے اس حملے کی مذمت کی ہے جبکہ مغربی ممالک نے اپنے سفارت کاروں اور شہریوں کو چاڈ سے نکالنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ۔چاڈ کی حکومت نے پڑوسی ملک سوڈان پر باغیوں کی حمایت اور کاروائیوں میں تعاون کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ، فوجی کاروائی کرنے کی دھمکی دی ہے۔