1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چاول کی قیمتیں: ایشیائی ملکوں میں احتجاج غیر متوقع

تیونس، مصر اور لیبیا میں عوامی احتجاجی مظاہروں کے شروع ہونے میں شاید اشیائے خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن زیادہ تر چاول کھانے والے براعظم ایشیا میں ایسی کسی پیش رفت کی توقع نہیں ہے۔

default

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زارعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیائی ملکوں میں چاول کی قیمتوں میں اضافہ اب تک بہت غیر معمولی نہیں ہے۔ عالمی بینک کے صدر رابرٹ زوئلک نے اسی مہینے خبردار کیا تھا کہ عالمی سطح پر اشیائے خوراک کی قیمتیں خطرناک حد تک زیادہ ہو چکی ہیں۔

اس سال جنوری میں گزشتہ برس جنوری کے مقابلے میں اشیائے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ قریب 30 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔ اس لیے عالمی بینک کے سربراہ کو یہ تنبیہ بھی کرنا پڑی تھی کہ قیمتوں میں اس اضافے کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی دیکھنے میں آ سکتے ہیں۔

خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا جیسے علاقوں میں، جہاں عام شہری بڑی رغبت سے گندم کھاتے ہیں، بین الاقوامی منڈیوں میں گندم کی قیمتوں میں گزشتہ برس اکتوبر میں روس کی طرف سے اپنی گندم کی برآمد روک دینے کے بعد سے 70 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آ چکا ہے۔

Guyana Traktor auf einem Reisfeld in Khirsah

FAO کے اعداد و شمار کے مطابق روس اور یوکرائن عام طور پر سالانہ 25 ملین ٹن گندم برآمد کرتے ہیں، جس کا زیادہ تر حصہ مشرق وسطیٰ کے مصر جیسے ملکوں کو بھیجا جاتا ہے۔

حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی منڈیوں میں چاول کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے، اسے غیر معمولی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چاول کی قیمتوں میں اضافہ گندم اور مکئی کی قیمتوں میں اضافے جتنا نہیں رہا۔ جنوبی اور مشرقی ایشیا کے ملکوں میں رہنے والے تین بلین سے زائد انسانوں کی روزانہ خوراک کا ایک لازمی حصہ چاول بھی ہوتے ہیں۔

تھائی لینڈ میں چاول برآمد کرنے والے اداروں کی ملکی تنظیم کے ایک مشیر کے مطابق گزشتہ ایک سال میں چاول کی بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں میں جو اضافہ ہوا، وہ 20 فیصد سے بھی کم رہا ہے۔ اس لیے کم از کم چاول کی زیادہ قیمتوں کی وجہ سے ایشیائی ملکوں میں حکومتوں کے خلاف عوامی احتجاج کا شروع ہونا ممکن نہیں ہے۔

تھائی لینڈ دنیا میں چاول برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جو ہر سال تقریباﹰ 9 ملین ٹن چاول برآمد کرتا ہے۔ عالمی سطح پر اشیائے خوراک کی دستیابی کے حوالے سے 2008ء میں نظر آنے والے بحرانی حالات کی ایک وجہ چاول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ بھی تھا۔ تب ایک ٹن چاول کی قیمت 1100 امریکی ڈالر سے بھی زیادہ ہو گئی تھی۔ لیکن اس وقت دنیا میں چاول کی دستیابی کے حوالے سے کسی نئے بحران کا کوئی امکان اس لیے نہیں کہ آج کل عالمی منڈیوں میں چاول کافی مقدار میں دستیاب ہے، اور اس کی قیمت بھی محض 530 امریکی ڈالر فی ٹن بنتی ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس