1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

چانسلر میرکل نےمہاجرین مخالف ’جرمن تشخص‘ کو رد کر دیا

جرمن چانسلر کی کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی (سی ڈی یو) مہاجرین کے مسئلے اور دیگر مسائل پر منقسم ہے۔ اگلا برس انتخابات کا برس ہے، اور میرکل کی کوشش ہے کہ جماعت میں اتحاد قائم کیا جا سکے۔

اگلے برس جرمنی میں عام انتخابات ہونا طے ہیں۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے چوتھی مدت کے لیے چانسلر کے عہدے کے لیے امیدوار ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق یہ ان کے لیے اب تک کے مشکل ترین انتخابات ہوں گے۔

میرکل کے لیے جرمنی اور یورپ کو درپیش مہاجرین کا بحران ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ ان کی مہاجرین سے متعلق فراخ دلانہ پالیسیوں کے سبب ان کی اپنی جماعت کے بہت سے رہنما ناخوش دکھائی دے رہے ہیں۔ آج منگل کے روز سی ڈی یو کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں میرکل کی کوشش ہے کہ وہ جماعت میں اپنی مقبولیت کو بہ حال کر سکیں۔

سی ڈی یو کو امسال ہونے والے ریاستی انتخابات میں بھی دھچکے لگے ہیں اور اس کے ووٹوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری جانب انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار ڈیموکریسی (اے ایف ڈی) کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اے ایف ڈی کئی ریاستوں کی اسمبلیوں میں پہنچ چکی ہے۔ دو برس قبل یہ تصور بھی محال تھا کہ یہ مہاجرین مخالف جماعت اتنی تیزی سے ترقی کرے گی۔

سی ڈی یو کے بعض اراکین کے ساتھ ساتھ دائیں بازو کی جماعتیں میرکل کو مہاجرین کے بحران کا ذمے دار قرار دیتے ہیں۔ میرکل کا کہنا ہے کہ اس بحران کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے سے اجتناب برتنا چاہیے۔

سی ڈی یو کی کانفرنس میں میرکل نے دائیں بازو کی پاپولسٹ جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے اپنی لبرل پالیسیوں کا دفاع کیا۔ 

آلٹرنیٹو فار جرمنی کا نام لیے بغیر میرکل نے کہا، ’’ہمیں طے کرنا ہوگا کہ یہ کون لوگ ہیں، چاہے یہ کتنا ہی شور کیوں نہ مچا رہے ہوں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ جرمنی کو آسان جوابات سے گریز کرنا ہوگا۔ ’’دنیا سیاہ اور سفید میں منقسم نہیں ہے۔ آسان حل جرمنی میں ترقی نہیں لا سکتے۔‘‘

اٹلی میں وزیر اعظم ماتیو رینزی کی جانب سے کرائے گئے ریفرنڈم میں ان کی پالیسوں کے خلاف عوامی فیصلے اور اس کے بعد ان کے استعفے، اور فرانس میں صدر فرانسوا اولانڈ کے اگلے برس رخصت ہو جانے کے تناظر میں میرکل کی یورپی سیاست میں اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ تاہم میرکل کے لیے انتخابات جیتنا آسان نہیں ہوگا اور ان کو اپنی جماعت کے ان ناراض ووٹروں کا اعتماد بہ حال کرنا ہوگا جو ان کی بعض پالیسیوں پر نکتہ چیں ہیں۔

اس صورت حال کے بابت سی ڈی یو کے سیکرٹری جنرل پیٹر ٹاؤبر کا کہنا ہے، ’’ہم جانتے ہیں کہ ہماری دنیا تبدیل ہو رہی ہے۔ ایسا ہمیشہ ہوتا رہا ہے۔ جو بھی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اس تبدیلی کو روک سکتا ہے وہ سچ نہیں بول رہا۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’’ہم اس تبدیلی کو جرمنی کے لیے ایک اچھی راہ متعین کرنے  کے لیے کردار ادا کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں۔‘‘

مبصرین کے مطابق منگل کے روز ایسن شہر میں ہو رہی سی ڈی یو کی یہ کانفرنس یہ بات طے کرے گی کہ سی ڈی یو میرکل کے ساتھ کس حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔