1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

چاند پر پہاڑی سلسلہ، وجہ ایک اور چاند سے ٹکراؤ

چاند پر موجود پہاڑ کیوں وجود میں آئے اس راز کے بارے میں طرح طرح کے نظریات پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم اب ایک تازہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ پہاڑ اربوں سال پہلے ایک اور چھوٹے چاند سے ٹکراؤ کے باعث وجود میں آئے۔

default

محققین کے مطابق ٹکرانے والا دوسرا چاند حجم میں نسبتاﹰ کم تھا اور یہ کم رفتار کے ساتھ چاند سے آن ٹکرایا۔

چاند کی سطح پر موجود ان پہاڑی سلسلوں کی بلندی تین ہزار میٹر یا 10 ہزار فٹ تک ہے، جبکہ اس پر گہرے گڑھے بھی موجود ہیں۔ سائنسدان چاند کی سطح پر موجود ان مختلف النوع حالات جسے ’لیونر ڈیچوٹومی‘ (Lunar dichotomy) کہا جاتا ہے، کی کئی ایک توجیہات پیش کی جاتی رہی ہیں۔ بعض محققین اس کی وجہ گرمی کی غیر یکساں لہروں کو قرار دیتے ہیں۔ اس عمل میں اجرام فلکی کے اپنے مدار اور محور کے گرد گھومنے کے سبب پیدا ہونے والی توانائی اس کی سطح کو بگاڑ دیتی ہے۔

کئی دیگر فلکیاتی ماہرین کے مطابق چاند کی سطح پر ان نشیب وفراز کی وجہ اس پر برسنے والے شہاب ثاقب، سیارچے اور دم دار ستارے ہیں۔

تاہم اب کیلیفورنیا یونیورسٹی کے دو محققین مارٹن جوٹزی Martin Jutzi اور ایرک ایسفاگ Erik Asphaug نے چاند کی سطح کی موجودہ حالت کے حوالے سے ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے۔ سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں چھپنے والی اس تحقیق کے متعلق اس کے ریسرچرز کا کہنا ہے کہ یہ نظریہ دراصل چاند کے حوالے سے ان تمام سوالات کے جواب دیتا ہے جو اس سے پہلے کے نظریات میں نہیں ملتے۔

چھوٹا چاند اپنی پوزیشن کے باعث نسبتاﹰ کم رفتار سے چاند کی سطح سے جا ٹکرایا جس کی وجہ سے پہاڑی سلسلہ وجود میں آیا

چھوٹا چاند اپنی پوزیشن کے باعث نسبتاﹰ کم رفتار سے چاند کی سطح سے جا ٹکرایا جس کی وجہ سے پہاڑی سلسلہ وجود میں آیا

فلکیاتی سائنسدانوں کے مطابق قریب چار ارب سال پہلے جب ہماری زمین ابھی نئی نئی اس شکل میں آئی تھی، مریخ کے سائز کا ایک اور فلکیاتی جسم ہماری زمین سے ٹکرایا تھا۔ اسے بڑے دھماکے کا نظریہ یا ’جائنٹ امپیکٹ ہائپوتھیس‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس دھماکے کے نتیجے میں خلاء میں جو ملبہ پھیلا اسی میں ہمارا چاند بھی شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں چاند کی طرح کے کئی دیگر چھوٹے اجسام بھی وجود میں آئے ہوں گے۔ جیسے جیسے ہمارا نظام شمسی موجود شکل اختیار کرتا گیا، خلا میں موجود یہ ملبہ یا چھوٹے اجسام دیگر بڑے سیاروں پر گر کر اپنا وجود کھوتے گئے۔

محققین نے حساب لگایا ہے کہ کم از کم ایک چھوٹا چاند جو اپنے قطر میں ہمارے موجودہ چاند سے ایک تہائی تھا بیسیوں ملین سال پہلے ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاں زمین اور چاند دونوں کی کشش ثقل کے اثرات موجود تھے۔ تاہم وہ اپنا یہ توازن زیادہ دیر تک برقرار نہ رکھ سکا اور آخر کار چاند سے ٹکرا گیا۔ چاند کی سطح اس وقت لاوے پر مبنی تھی تاہم اس کی اوپری سطح پپڑی یا چھلکے جیسی تھی۔

عام طور پر جب سیاروں کے حجم کے اجرام فلکی آپس میں تیز رفتاری سے ٹکراتے ہیں تو اس سے نہ صرف بہت بڑے گڑھے بن جاتے ہیں بلکہ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں اڑنے والا ملبہ دھماکے کی شدت سے پیدا ہونے والی گرمی سے پگھل جاتا ہے۔

اس نظریے سے اس بات کا بھی جواب ملتا ہے کہ زمین سے دور والی سمت میں چاند کی سطح اتنی موٹی کیوں ہے اور وہاں خاص قسم کی معدنیات کیوں جمع ہیں

اس نظریے سے اس بات کا بھی جواب ملتا ہے کہ زمین سے دور والی سمت میں چاند کی سطح اتنی موٹی کیوں ہے اور وہاں خاص قسم کی معدنیات کیوں جمع ہیں

تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چھوٹا چاند اپنی پوزیشن کے باعث نسبتاﹰ کم رفتار سے چاند کی سطح سے جا ٹکرایا جو دو سے تین کلومیٹر فی سیکنڈ کے قریب تھی۔ اس دھماکے کی وجہ سے پہاڑی سلسلہ وجود میں آیا۔

جوٹزی اور ایسفاگ کے بقول: ’’ہم نےکمپیوٹرز کے ذریعے ان حالات کی نقل بنا کر جو مشاہدہ کیا ہے اس کے مطابق چاند کے برابر حجم اور کم رفتار سے ٹکرانے کی بدولت چاند کی سطح پر موجود مادہ اکٹھا ہوکر ابھاروں کی شکل اختیار کر گیا۔‘‘

ان محققین کے مطابق اس نظریے سے اس بات کا بھی جواب ملتا ہے کہ زمین سے دور والی سمت میں چاند کی سطح اتنی موٹی کیوں ہے اور وہاں خاص قسم کی معدنیات کیوں جمع ہیں۔

اگر اس نظریے کو درست مان لیا جائے تو پھر پہاڑیوں کی شکل اختیار کرنے والا ملبہ چاند کی سطح کے مقابلے میں کئی ملین برس قبل ہی ٹھوس شکل اختیار کر گیا ہوگا۔ تاہم ابھی تک اس کو ثابت کرنے کے لیےکوئی نمونے دستیاب نہیں ہیں۔ تاہم ناسا کی طرف سے چاند کی سطح کا جائزہ لینے کے لیے اس کے مدار میں بھیجے گئے مشن سے اگلے برس تک ایسی معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد اس نظریے کی حتمی تصدیق یا تردید ہو سکے گی۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس