1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

چاند نگری پر تحقیق

امریکہ اب سے کوئی گیارہ سالوں بعد چاند پر انسان بردار مشن روانہ کرے گا۔ یہ مشن چالیس سال قبل کے مشن سے بالکُل مختلف ہو گا کیونکہ اب خلاباز صرف چہل قدمی نہیں بلکہ تحقیق کرنے کے لئےچاند کی سرزمین پر اُتریں گے۔

default

چاند کی خلائی تصویر

امریکی خلائی اِدارے ناسا کا چاند کی تحقیق کے بارے میں مشن اپنی منزل کے قریب ہے۔ امریکی خلائی اِدارے کی جانب سے لُونر ریکنائےسنس آربِٹر یا LRO اب چاند کے مدار میں داخل ہو چکا ہے۔ روانگی کے بعد اِس نے ساڑھے چار دِن میں چاند کے مدار میں داخل ہونے کی کامیابی حاصل کی ہے۔ اِس سفر کے دوران خلائی انجینئروں نے زمین پر بیٹھے بیٹھے خلائی جہاز کے عمل میں مرمت کی اور اِس کی وجہ یہ کہ کہیں LRO چاند کے مدار کے باہر نہ نکل جائے۔

چاند کے موجودہ مشن کا انچارج امریکی ریاست میری لینڈ میں واقع گوڈرڈ خلائی پرواز کا مرکز ہے۔ LRO کا مقصد چاند سے مزید معلُوماتی ڈیٹا اکھٹا کرنا ہے تا کہ مستقبل قریب میں ناسا کے انسان بردار چاند مشن کو نئے انداز میں استوار کیا جا سکے۔

Raumsonde der NASA vor dem Mond

چاند کے مدار میں موجود امریکی خلائی مرکز کا آربِٹر یا LRO

گوڈرڈ مرکز نے تصدیق کی ہے کہ جونہی LRO چاند کے مدار میں داخل ہوا ہے تبھی سے نئے ڈیٹا کی رسد کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس مشن کے دوران چاند کے مدار میں تمام کیفیت کا ڈیٹا حاصل کیا جائے گا۔ یہ عمل ساٹھ روز پر محیط ہے۔ اِن معلُومات کی روشنی میں چاند کا ایک تین سمتوں والا یا تھری ڈی نقشہ تیار کیا جائے گا۔ اِس دوران چاند کے انتہائی گہرے مقام کا بھی احاطہ کرنے کی کوشش کی جائے گی اور پھر LRO وہاں کریش لینڈنگ کرے گا۔ وہاں سے حاصل ہونے والے نمونوں کی ریسرچ کی جائے گی تا کہ معلُوم کیا جا سکے کہ چاند پر منجمد پانی کی صورت حال کیا ہے۔

موجودہ امریکی معلُومات اور مختلف سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے عمل کی روشنی میں ناسا سن دو ہزار بیس میں انسان بردار جہاز چاند پر روانہ کرے گا۔

امریکہ کی جانب سے اپالو مشن کے تحت گزشتہ صدی میں انسان بردار جہاز چاند پر روانہ کئے گئے تھے۔ نیل آرمسٹرانگ پہلے خلاباز تھے جنہوں نے چاند پر قدم رکھا تھا۔سن اُنیس سو بہتر کے بعد سے امریکی انسان بردار جہاز چاند پر روانہ نہیں کیا گیا۔ جتنے بھی پہلے جہاز روانہ کئے گئے تھے اُن میں خلابازوں کی صرف چاند کی سرزمین پر چہل قدمی تھی مگر اب باقاعدہ تحقیق عمل شرع کیا جا رہا ہے۔

دُوسری جانب امریکی خلائی شٹل انڈیور کا سیال ہائیڈروجن کے بہہ جانے کا ایک اور ٹیسٹ شیڈیول کیا گیا ہے۔ اِس لیک کی وجہ سے خلائی شٹل اعلان کے باوجود دو مرتبہ بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے لئے روانہ نہیں کی جا سکی تھی۔ تمام نقائص کی مرمت کے بعد امکاناً گیارہ جولائی کو یہ روانہ ہو گی۔