1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چالیس لاکھ مسلمان حج ادا کریں گے

سعودی سرزمین پر مسلمانوں کے سب سے بڑے اور مقدس مذہبی اجتماع ’حج‘ کے لئے اس سال ریکارڈ چالیس لاکھ عازمین کی آمد متوقع ہے جو مذہبی سعادتیں سمیٹنے کے ساتھ اس ملک کی معیشت کے لئے بھی خوشگوار جھونکا ثابت ہوں گے۔

default

مکہ چیمبر آف کامرس میں سیاحت و ہوٹلنگ کی کمیٹی کے سربراہ ولید ابو صبا کے بقول گزشتہ سال سوائن فلو کے سبب زیادہ لوگ نہیں آسکے تھے اسی لئے اس سال زیادہ عازمین کی آمد متوقع ہے۔ گزشتہ سال 25 لاکھ عازمین نے حج ادا کیا تھا۔

مکہ کے گورنر خالد الفیصل کے بقول حج کے مناسک شروع ہونے سے قبل ہی لگ بھگ 15 لاکھ عازمین پہنچ چکے ہیں اور ساتھ ہی شہر میں کاروبار بڑھ گیا ہے۔ بہت سے مقامی و تارکین وطن مکہ و مدینہ میں دکانیں سجا کر بیٹھے ہیں اور اچھے کاروبار کی امید کر رہے ہیں۔ بھارت سے سعودی عرب پہنچنے والے شیخ حبیب کے مطابق لوگ بہت بے چینی سے اس سال حج کا فریضہ سر انجام دینا چاہتے ہیں۔ شیخ کے مطابق جدہ شہر میں بھی بھیڑ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ تمام ہوٹل بُک ہیں۔

Mekka Kaaba Zeitraffer Flash

گزشتہ برس سوائن فلو کے خطرے کے پیش نظر عازمین کی تعداد قدرے کم رہی تھی

منا میں تعمیراتی کام کی وجہ سے غیر ملکی عازمین کے لئے رہائشی خیمے لگانے کے مقام میں کمی واقع ہوئی ہے۔ چیمبر آف کامرس میں حج کمیٹی کے سربراہ سعد القریشی کے بقول لگ بھگ اٹھارہ لاکھ غیر ملکیوں کے لئے رہنے کی گنجائش موجود ہے۔ حج آپریٹرز بھی پرشکوہ ہیں کہ تعمیراتی کام کے سبب انہیں حاجیوں کو ٹہرانے میں مشکلات درپیش ہیں۔ ایسے ہی ایک آپریٹر نور الاسلام کے بقول وہ عمومی طور پر گنجائش سے کم حاجیوں کو رکھتے ہیں تاکہ وہ پر سکون ہو کر رہ سکیں تاہم اس بار جگہ کی تنگی سے پریشانی ہورہی ہے۔

سعودی حکام کو امید ہے کہ تیل کی آمدن کے بغیر حاصل شدہ مجموعی قومی پیداوار کا 7.2 فیصد اس بار حج کے دوران حاصل کیا جاسکے گا۔ گزشتہ سال یہ 6.8 فیصد تھا۔ اگرچہ قدرتی وسائل سے مالا مال سعودی عرب کی معیشت اس آمدن پر انحصار نہیں کرتی تاہم یہ موقع روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے اہم تصور کیا جاتا ہے۔

سعودی حکام اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ عازمین کو جاری کیا جانے والا حج ویزہ محض دو شہروں تک محدود نہ رکھا جائے تاکہ بیرون ملک سے آنے والے عازمین دوسرے مقامات پر بھی جاسکیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس