1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چاقو سے حملے دہشت گردانہ کارروائی ہو سکتی ہے، فنش پولیس

فن لینڈ کی پولیس نے کہا ہے کہ گزشتہ روز متعدد افراد پر چاقو سے وار کرنے والا شخص ایک اٹھارہ برس کا مراکشی لڑکا ہے۔ ان حملوں کی تفتیش اب دہشت گردانہ کارروائیوں کے تناظر میں کی جارہی ہے۔

فن لینڈ کے شہر ٹرکو میں جمعے کے روز چاقو سے کیے گئے حملوں میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے تھے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اب ان حملوں کی تحقیقات دہشت گردی کی کارروائی کے طور پر کی جا رہی ہے۔ جمعے کے روز فنش پولیس نے ٹویٹر پر ایک پیغام میں لکھا تھا کہ اس تناظر میں ایک مشتبہ شخص کی ٹانگ پر فائر کیا گیا اور اُسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ حملے دہشت گردی کے ارادے سے کیے گئے تھے۔

ٹرکو کی پولیس کے مطابق حملہ آور ایک اٹھارہ سالہ مراکشی لڑکا ہے جو سن دو ہزار سولہ میں فن لینڈ آیا تھا اور اس کی پناہ کی درخواست پر عمل درآمد ابھی جاری تھا۔

مبینہ حملہ آور فی الحال ٹانگ پر گولی لگنے کے سبب ہسپتال میں داخل ہے اور اُس کا علاج ہو رہا ہے۔

پولیس نے گزشتہ رات ٹرکو کے ایک اپارٹمنٹ میں چھاپہ مار کے چار مزید مراکشی باشندوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کی جانب سے ایک پانچویں شخص کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ فن لینڈ سے باہر ہے۔

فن لینڈ میں یہ مبینہ دہشت گردانہ حملے اسپین میں جمعے کے روز وین کے ذریعے کیے گئے حملوں کے ایک روز بعد ہوئے۔ بارسلونا کی ایک معروف شاہراہ پر ایک وین کے لوگوں کو کچلنے کے واقعے میں چودہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ بارسلونا حملوں کی ذمہ داری گزشتہ روز جہادی تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش نے قبول کی تھی۔

DW.COM