1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’چار ہزار عورتيں، بچے اور معذور مہاجرين يونانی جزائر پر قيد‘

’ہيومن رائٹس واچ‘ نے يورپی يونين اور بالخصوص يونان پر تنقيد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی سے يونان پہنچنے والے مہاجرين کو ’من مانے طریقے سے انتہائی خراب حالات ميں‘ حراست ميں رکھا جا رہا ہے۔

جرمن نيوز ايجنسی ڈی پی اے کی ايتھنز سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق انسانی حقوق کے ليے سرگرم ادارے ’ہيومن رائٹس واچ‘ نے يورپی يونين اور يونان پر الزام عائد کيا ہے کہ ترکی سے نئے آنے والے مہاجرين کو انتہائی ابتر حالات ميں قيد میں رکھا جا رہا ہے۔ اس ادارے کے مطابق ليسبوس اور خيوس کے جزائر پر تقريباً چار ہزار مہاجرين زير حراست ہيں، جن ميں عورتيں، بچے اور معذور افراد بھی شامل ہيں۔

يہ امر اہم ہے کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افريقہ اور ايشيا سے سياسی پناہ کے ليے يورپ کا رخ کرنے والے ہزاروں، لاکھوں تارکين وطن کے ليے بحيرہٴ ايجيئن کے جزائر ایک ایسے دروازے کی حيثيت رکھتے ہيں، جہاں سے یورپ میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔

اس بارے ميں بات کرتے ہوئے ہيومن رائٹس واچ کی ايوا کوزے نے کہا، ’’يونان ميں اسلامک اسٹيٹ اور طالبان کے شکنجوں سے يا شامی حکومت کے بيرل بموں سے بچ کر آنے والے خاندانوں کو يورپی يونين کی نافذ العمل پاليسی کے تحت حراست ميں رکھا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مہاجرين کو حراست ميں رکھنے کے علاوہ متبادل راستے بھی ہيں اور اسی ليے پناہ گزينوں کو سلاخوں کے پيچھے رکھنے کا کوئی قانونی يا اخلاقی جواز موجود نہيں۔

موريا کے مہاجر کيمپ کا ايک منظر

موريا کے مہاجر کيمپ کا ايک منظر

اس کے رد عمل ميں يورپی کميشن کی ترجمان ٹووے ارنسٹ نے بيلجيم کے دارالحکومت برسلز ميں رپورٹروں سے بات چيت کرتے ہوئے کہا کہ سياسی پناہ کے متلاشی افراد کی حراست ممکن ضرور ہے تاہم ایسا انتہائی کم اور صرف بوقت ضرورت ہی کیا جانا چاہيے۔ ان کے بقول يورپی قوانين ميں اس کی اجازت ہے اور يونانی جزائر پر يہ اس ليے ہو رہا ہے تاکہ پناہ گزين خفيہ طور پر فرار نہ ہو جائيں۔ تاہم ان کا يہ بھی کہنا تھا کہ مہاجرين کو حراست ميں رکھنے اور پھر ان کی ملک بدری کا عمل مکمل طور پر يورپی اور بين الاقوامی قوانين کے مطابق کيا جائے گا اور اس بات کو يقينی بنانے کے ليے يورپی بلاک يونانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے ميں ہے۔

يونانی جزائر خيوس اور ليسبوس پر قائم مہاجر کيمپ ابتدا ميں اندراج کے مراکز کے طور پر فعال تھے تاہم ترکی اور يورپی يونين کے مابين متنازعہ ڈيل کو حتمی شکل ديے جانے کے بعد سے وہ حراستی مراکز کے طور پر بھی کام کر رہے ہيں۔ بيس مارچ کے بعد بحيرہٴ ايجيئن کے راستے ترکی سے يونان آنے والوں کو يونانی حکام انہی مقامات پر حراست ميں رکھ رہے ہيں۔ ليسبوس پر موجود موريا کے کيمپ کی آبادی اکتيس سو ہے اور اس کے گرد باڑ نصب ہے۔ اسی طرح خيوس پر واقع کيمپ کی آبادی لگ بھگ ايک ہزار ہے اور اس کے گرد بھی باڑ لگی ہوئی ہے۔