1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

چار دن میں میرا گانا چار ملین مرتبہ دیکھا گیا، طاہر شاہ

’اینجل‘ نامی گیت کے خالق پاکستانی گلوکار طاہر شاہ نے کہا ہے کہ ان کے اس گانے کو اس کی ریلیز کے پہلے چار دنوں میں چار ملین مرتبہ دیکھا گیا اور یہی ان کی کامیابی ہے۔ انہوں نے یہ بات ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی۔

یہ 2013 کی بات ہے جب ’آئی ٹو آئی‘ کے نام سے ریلیز ہونے والے ایک گیت کی ویڈیو نے طاہر شاہ کو راتوں رات شہرت دلائی تھی۔ سوشل میڈیا پر دھوم مچانے والے طاہر شاہ تین اب سال بعد ’اینجل‘ نامی گیت کے ساتھ ایک بار پھر منظرعام پر آئے اور چھا گئے۔ پانچ منٹ دورانیے کی اس میوزیکل ویڈیو میں طاہر شاہ ایک فرشتے کے روپ میں ’میں ایک فرشتے کی طرح ہوں، انسانیت کا فرشتہ، میرا دل گلاب کی طرح ہے، انسانیت کی روح‘ جیسے بول انگریزی زبان میں گاتے نظر آتے ہیں۔ طاہر شاہ کے اس گانے نے اپنی شاعری سے لے کر عکس بندی تک جس طرح ناظرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، ویسا پاکستان میں پہلے شاید ہی کبھی دیکھا گیا تھا۔ ’اینجل‘ کی اس زبردست کامیابی کے تناظر میں طاہر شاہ نے کراچی میں ڈوئچے ویلے کے لیے عنبرین فاطمہ سے خصوصی گفتگو بھی کی:

ڈی ڈبلیو: کیا آپ نے گلوکاری کی کوئی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی؟

طاہر شاہ: میں جو موسیقی کے لیے کام کر رہا ہوں، وہ میں اپنے انداز کے مطابق اور اپنے خیال کو لے کر آگے بڑھ رہا ہوں اور لوگ اس کو پسند کر رہے ہیں۔ یہ میرے لیے بہت خوشی کی بات ہے کہ اسے پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے اور اس پر میں بہت خوش ہوں کہ لوگ اس کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

ڈی ڈبلیو: موسیقی کی تربیت حاصل کرنے کے بعد اگر گلوکاری کا آغاز کرتے تو کیا صورتحال مختلف ہوتی؟

طاہر شاہ: جب آپ کوئی نیا کام کر رہے ہوتے ہیں تو جو چیز سب سے اہم ہوتی ہے، وہ یہ ہوتی ہے کہ کیا چیز دیکھی جا رہی ہے؟ سیکھنے سے پہلے ہی آپ بہت سی اچھی چیزیں پہلے ہی کر رہے ہوتے ہیں اور سیکھنے سے ان میں مزید بہتری آ جاتی ہے۔ یہاں میں اپنے انداز سے نئی جدت کے ساتھ ایک چیز لے کر آیا ہوں اور پوری دنیا میں اسے پسند کیا جا رہا ہے اور میرے لیے یہی اہم ہے کہ میرے چاہنے والے اس کو پسند کر رہے ہیں۔

ڈی ڈبلیو: آپ کی ویڈیوز کے پیچھے خیالات کس کے ہوتے ہیں؟

طاہر شاہ: میں اپنی ساری چیزیں خود کرتا ہوں اور ان کے پیچھے میری اپنی تخلیقات ہوتی ہیں۔ سارے خیالات، سارے تخیلات میرے اپنے ہوتے ہیں۔ پھر سب چیزیں دیکھ کر ان کو کاغذ پر منتقل کرتا ہوں اور پھر خود ہی ان کو حتمی شکل دیتا ہوں۔

ڈی ڈبلیو: آپ کے دونوں گانوں کی ویڈیوز وائرل ہو گئیں، دنیا بھر میں ان گانوں کو بطور مذاق بھی شیئر کیا گیا؟ آپ کو کبھی بُرا نہیں لگا؟

طاہر شاہ: سب اپنے اپنے نظریے سے چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ جب آپ نیا کام کرتے ہیں تو کچھ لوگوں کو دیر سے سمجھ آتا ہے۔ جب سمجھ آتا ہے تو وہ اپنا مارک بناتا ہے، اور ایک phenomenon بن جاتا ہے پوری دنیا میں۔ ہر کوئی اپنی پسندیدگی کے مطابق دیکھتا ہے اور لوگوں کی پسندیدگی ہی سب سے اہم ہوتی ہے۔ یہ خیال اہم ہوتا ہے کہ لوگ کس نظریے سے آپ کی تخلیق کو دیکھ رہے ہیں۔ لوگ اس کو پسند کر رہے ہیں، تبھی تو اس پر اتنے ویوز آ رہے ہیں۔ ’آئی ٹو آئی‘ گانے نے اپنے وقت میں ایک ریکارڈ بنایا تھا اور اب ’اینجل‘ کو چار ملین سے زیادہ ویوز مل چکے ہیں، تو یہ لوگوں کی پسندیدگی ہی ہے جس سے آپ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور آپ آگے بڑھتے ہیں۔

ڈی ڈبلیو: آپ کی فیملی نے کبھی اس پر اعتراض کیا؟ یا لوگوں کے ردعمل کا بُرا منایا؟

طاہر شاہ: جب آپ کام کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کا خاندان آپ کو سپورٹ کرتا ہی ہے۔ یہ لوگوں کا اپنا نظریہ ہے کہ وہ کسی بھی تخلیق کو کس نظر سے، کس انداز سے دیکھتے ہیں۔ سب کو اظہار رائے کا حق حاصل ہے۔ جب آپ اپنے چاہنے والوں کے لیے کام کرتے ہیں تو ان کو پسند آتا ہے، جس کا اظہار وہ کرتے ہیں۔ جب تنقید کی جاتی ہے تو اس سے آپ سیکھتے ہیں اور پھر آگے بڑھتے ہیں۔ مثبت یا منفی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ اپنی چیز کو، خود کو آگے کی طرف لے جائیں کیونکہ آپ کو آگے بڑھتے رہنا چاہیے اور اچھا کام کرتے رہنا چاہیے۔ خود میں یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ آپ جو کچھ بھی تخلیق کر رہے ہیں، اس کو سراہا جائے اور ش‍ائقین کی طرف سے یہی تعریف میرے لیے اصل اہمیت کی حامل ہے۔

ڈی ڈبلیو: مستقبل کے لیے کیا منصوبے ہیں آپ کے؟ آپ کے فینز کسی میوزک البم یا جلد ہی کسی نئے گانے کی توقع رکھیں؟

طاہر شاہ: اس حوالے سے کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کیونکہ ابھی چیزیں چل ہی رہی ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ میں نے اپنے اس پراجیکٹ کے لیے وقت لگایا اور میں وقت ضرور لگاتا ہوں۔ جب آپ کوئی کوالٹی چیز کر رہے ہوتے ہیں یا کوئی نئی چیز تخلیق کر رہے ہوتے ہیں، تو اس کے لیے آپ کو وقت ضرور درکار ہوتا ہے۔ ’آئی ٹو آئی‘ کے بعد مجھے لوگوں نے کہا کہ میں نے بہت زیادہ وقت لگایا ہے۔ گانے تو بہت سے بنا لیے جاتے ہیں لیکن دیکھا یہ جاتا ہے کہ آپ اس میں کیا نئی بات، کیا نئی خصوصیت لے کر آئے ہیں؟ اس میں کیا پیغام دے رہے ہیں؟ کس آئیڈیا کے ساتھ آپ آ رہے ہیں؟ اینجل میں میں نے یہ پیغام دیا کہ ایک دوسرے سے محبت کیجیے۔ انسانیت سے بڑی چیز کیا ہو سکتی ہے؟ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ پیار اور محبت سے رہنا چاہیے۔ یہی ہماری اقدار کا حصہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ میں لوگوں تک اس پیغام کو پہنچانے میں کامیاب رہا ہوں۔ تبھی تو میری ویڈیوز کو اس قدر پسند کیا جا رہا ہے۔