1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

چارلی شین ایک بار پھر ٹیلی وژن پر

معروف امریکی اداکار چارلی شین ایک بار پھر چھوٹی اسکرین پر نظر آئیں گے۔ ان کو غصے اور تناؤ پر کنٹرول کی مناسبت سے بنائی جانے والی نئی ٹی وی سیرز’’اینگر مینجمینٹ‘‘ میں کاسٹ کیا گیا ہے۔

default

چارلی شین: فائل فوٹو

چارلی شین کو چند ماہ قبل مارچ میں ’’ٹو اینڈ اے ہاف مین شو‘‘سے نکال دیا گیا تھا۔ برطرف ہونے کے چار مہینوں کے بعد انہیں کسی نئے شو میں دوبارہ کاسٹ کیا گیا ہے۔

نئی ٹی وی سیریز میں اپنے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے چارلی شین کا کہنا ہے’’ اینگر منیجمینٹ میں میرا کردار دراصل میری ذہانت اور رویے کی عکاسی کرتا ہے، اس موضوع کا انتخاب بہت اچھا ہے اور کردار کو نبھانے میں مجھے بہت مزہ آئے گا اور یہ سیریز میرے اپنے پسندیدہ پروڈیوسر کے ساتھ ہے،کام کرنے کے موقع کے ساتھ ساتھ عزت اور پیسہ بھی مل رہا ہے۔‘‘

پینتالیس سالہ اداکار نے ورنر برادرز کے خلاف 100 ملین کا ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر اس کو ’’ ٹو اینڈ اے ہاف مین شو‘‘ سے نکال دیا تھا اور شو کو بھی ختم کر دیا گیا تھا۔

Flash-Galerie Cannes Filmfestival 2011 Woody Allen Midnight in Paris

چارلی شین اور وُڈی ایلن کی ایک فلم کن فلمی میلے میں پیش کی جا چکی ہے

ماضی میں شین نے خود کو منشیات کا عادی اور قدرے جارحانہ رویے کا حامل قرار دیا تھا۔ اب ان کا یہ کہنا ہے کہ سردست وہ بلکل ٹھیک ہیں۔ لیکن مئی میں شو کے پروڈیوسر نے بتایا کہ شین نے خود معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی اور اب وہ اداکار ایشٹن کُچر کو اس سال نئی سیرز میں کاسٹ کریں گے۔

شین کو ’’ٹو اینڈ اے ہاف مین‘‘ شو سے نکلنے کے بعد خاصی شہرت ملی اور انٹرنیٹ پر ان کے شائقین نے دل کھول کر ان کا پیچھا کیا۔ بعد میں چارلی شین نے ایک کامیڈی شو شروع کیا۔ یہ شو کسی ایک شہر سے نہیں پیش کیا گیا بلکہ شہر بدل بدل کر وہ اسے براڈکاسٹ کرتے تھے۔ اس کا نام "My Violent Torpedo of Truth/Defeat is Not an Option" تھا۔

بہرحال یہ شو بہت کامیاب رہا تھا اس شو کا اغاز 2003 میں کیا گیا تھا اور کئی مشہور ایوارڈز کے لیے بھی اسے نامزد بھی کیا گیا۔ اسی کامیڈی شو کے لیے شین کو ایمی اور گلوبل ایوڈز کی نامزدگی حاصل ہوئی۔

1990ء سے ہی شین منشیات، گھریلو تشدد، قانون کی خلاف ورزی،کے مقدمات میں ملوث رہے ہیں اور اب گزشتہ نومبر سے انھوں نے اپنی بیوی کے خلاف طلاق کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

رپورٹ: سائرہ ذوالفقار

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس