1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

چائنیز گراس: ایک پودے کے بے شمار کمالات

چائنیز گراس نامی پودا نہ صرف پلاسٹک کا متبادل بن سکتا ہے بلکہ اِسے تعمیراتی مادے کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اِس کی مدد سے ہائیڈروجن گیس تیار کرتے ہوئے اِسے ایندھن کے طور پر بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

بون یونیورسٹی کے ایک تحقیقی مرکز میں اگلایا جانے والا پودا ’چائنیز گراس‘

چائنیز گراس کا پودا

جرمنی میں Myscanthus یا چائنیز گراس پر تحقیق کا کام کرنے والے اداروں میں بون یونیورسٹی بھی شامل ہے، جس نےآئفل کے علاقے کلائن آلٹنڈورف میں ایک تحقیقی مرکز قائم کر رکھا ہے۔ یہاں ٹریکٹر چلتے دکھائی دیتے ہیں، باڑ کے پیچھے گھوڑے نظر آتے ہیں اور پھل دار درختوں اور کھیتوں کے بیچوں بیچ پلاسٹک کی شیٹوں سے ڈھکی زمین نظر آتی ہے۔ یوں بظاہر یہ تحقیقی مرکز کسی زرعی فارم کی طرح دکھائی دیتا ہے۔

چائنیز گراس سے چھوٹے چھوٹے پُرزہ جات بھی تیار کیے جا سکتے ہیں

چائنیز گراس سے چھوٹے چھوٹے پُرزہ جات بھی تیار کیے جا سکتے ہیں

اِس مرکز پر موجود ماہرین انسانی مستقبل کے لیے اہمیت کے حامل ایسے پودے اُگانے میں مصروف ہیں، جو تیزی سے پھل پھول سکتے ہوں، جنہیں مختلف طریقوں سے استعمال میں لایا جا سکتا ہو اور جو زرعی زمین کو زیادہ نقصان بھی نہ پہنچائیں۔ اِن ماہرین کا ہدف ایسے پودوں کی پیداوار ہے، جو توانائی کے معدنی ذخائر مثلاً تیل، کوئلے یا پھر زمینی گیس کا متبادل ثابت ہو سکتے ہوں۔

ماحولیاتی معیشت کے ماہر ایرنسٹ بیرگ کہتے ہیں:’’ہمارے لیے عالمگیر چیلنج یہ ہے کہ ہم اُس کاربن مادے کی جگہ، جو آج کل ہمارے توانائی کے معدنی ذخائر میں موجود ہوتا ہے، مرحلہ وار حیاتیاتی مادے کو رواج دیں۔ ایسا کرتے ہوئے ہمیں توانائی کے مسئلے کے ساتھ ساتھ، خوراک کے عالمی مسئلے اور مویشیوں کے لیے چارے کے مسئلے کو بھی حل کرنا ہو گا۔‘‘

چائنیز گراس سے ہلکا پھلکا کنکریٹ بھی تیار کیا گیا ہے

چائنیز گراس سے ہلکا پھلکا کنکریٹ بھی تیار کیا گیا ہے

اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج کل توانائی کے حصول کے لیے درخت اور پودے اگانے کا رجحان دُنیا کے کئی خطوں میں اَشیائے خوراک کی قلت کے باعث تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔ اِس لیے ماہرین کوئی ایسا حل سامنے لانے کے لیے کوشاں ہیں، جس میں پودوں سے توانائی کے حصول کے ساتھ ساتھ خوراک کا مسئلہ بھی حل کیا جا سکے۔ یہ پودے ایسے ہونے چاہییں کہ تھوڑی سی جگہ پر اُگا کر اِن کی زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔ چائنیز گراس یا چینی گھاس کا شمار قدرتی طور پر ہی تیزی کے ساتھ اگنے والے پودوں میں ہوتا ہے۔

رالف پُوڈے نے، جو آج ایک یونیورسٹی پروفیسر ہیں، تقریباً بیس برس پہلے ہی اِس پودے میں خام مادے کے طور پر چھپے ہوئے امکانات کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اِس سلسلے میں پیش آنے والی ابتدائی مشکلات کے بارے میں وہ بتاتے ہیں:’’مَیں نے سب سے پہلے اِس کی کاشت میں پیش آنے والے مسائل کو حل کرنے پر وقت صرف کیا۔ یہ مسائل حل ہو بھی گئے تو بھی کاشتکار یہ نہیں جانتے تھے کہ اس کا کرنا کیا ہے۔ چنانچہ مَیں نے اِس موضوع پر تحقیق شروع کی کہ کیسے اِس پودے کو خام مادے کے طور پر یا توانائی کے حصول کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اِس طرح مَیں نے کاشتکاروں کو یہ پودا کاشت کرنے کا قائل کیا۔‘‘

Chinagras Miscanthus Prof. Ralf Pude

پروفیسر رالف پُوڈے، جنہوں نے بیس سال پہلے ہی اِس پودے میں پنہاں امکانات کا اندازہ لگا لیا تھا

اگرچہ اِس پودے سے ابھی بائیو ڈیزل تو حاصل نہیں کیا جا سکتا تاہم اِس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے اسے آگ جلانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک خاص طریقہ استعمال کرتے ہوئے اِس پودے سے سے ہائیڈروجن بھی تیار کی جا سکتی ہے، جسے کاروں میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ توانائی تو سرسوں سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے لیکن اِسے اگانے کے لیے خرچ کی جانے والی اور پھر اِس سے حاصل ہونے والی توانائی کا تناسب محض ایک سے دو ہے جبکہ چائنیز گراس نامی پودے میں یہ تناسب ایک سے پندرہ ہے۔کاشتکار ایک ہیکٹر چائنہ گراس سے تقریباً آٹھ ہزار لیٹر فیول آئل کے برابر ایندھن حاصل کر سکتا ہے۔ یہ پودا کاشتکاروں میں اس لیے بھی مقبول ہو رہا ہے کہ یہ بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔ پروفیسر رالف پُوڈے بتاتے ہیں:’’یہ پودا سال کے اوائل میں روزانہ پانچ سینٹی میٹر تک بڑھ جاتا ہے، گویا آپ ہر صبح اور ہر شام جا کر اِس کی پیمائش کر سکتے ہیں۔‘‘

مجموعی طور پر اِس پودے کا قد دو سے لے کر تین میٹر تک ہوتا ہے۔ چائنیز گراس کے اور بھی کئی استعمال ہیں۔ اِس سے ہلکا پھلکا کنکریٹ بھی تیار کیا گیا ہے، اِس کو درجہ حرارت کو آگے پہنچنے سے روکنے والے مادے کے طور پر چھتوں میں بھی استعمال کیا گیا ہے، حتیٰ کہ اِسے بہت زیادہ گرم کر کے اِس سے ایک طرح کا پلاسٹک بھی تیار کیا گیا ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس