1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چائلڈ سیکس اسکینڈل: ’ملزمان کو پھانسی پر لٹکایا جائے‘

پاکستانی حکام نے شدید عوامی رد عمل کے بعد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور اس عمل کی ویڈیوز بنانے والے مبینہ گرفتار ملزمان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پولیس عہدیدار بابر سعید کے مطابق تقریباﹰ تین سو بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے مبینہ گروہ میں شامل مزید سات فراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس پولیس عہدیدار کا کہنا تھا، ’’ان ملزمان کو اتوار کے روز پنجاب کے دیہات حسین خان والا سے گرفتار کیا گیا۔‘‘

متاثرہ بچوں کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل لطیف احمد سراء کا جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ان گرفتار ملزمان کو اب دہشت گردی کے مقدمات کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔ یہ انتہائی وحشیانہ جرم ہے۔‘‘ یاد رہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی ممکنہ سزا موت بھی ہو سکتی ہے۔

اس جنسی اسکینڈل نے نہ صرف پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ عالمی میڈیا بھی اس بارے میں رپورٹیں نشر کر رہا ہے۔ پاکستان میں غریب گھرانوں کو پہلے ہی استحصال کا سامنا ہے۔ غریب بچوں کو نہ صرف مزدوری کرنا پڑتی ہے بلکہ انہیں گھریلو تشدد اور جنسی تشدد کا بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

متاثرہ بچوں کے والدین کا مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ قصور واروں کے لیے مثالی سزائیں چاہتے ہیں، ’’ان لوگوں نے بچوں کی زندگیاں برباد کر کے رکھ دی ہیں۔‘‘ ایک پچاس سالہ باپ کا کہنا تھا، ’’میں درد میں ہوں، میری نیندیں اڑ چکی ہیں اور میں خود بھی گم ہو چکا ہوں۔‘‘ اس والد کے دو بچوں کو نشہ آور ادویات کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے ویڈیوز بنائی گئیں تھیں جبکہ ملزمان ایک عرصے تک اس والد کو بلیک میل کرتے ہوئے پیسوں کا مطالبہ کرتے رہے۔

اپنے گھر کے سامنے بیٹھے ہوئے اس شخص کا کہنا تھا، ’’میں چاہتا ہوں کہ ان تمام کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔ میری خواہش ہے کہ ہمارے پاس بھی طاقت اور پیسہ ہوتا تاکہ ہم بھی انصاف خرید سکتے۔‘‘

اس والد کی مایوسی پاکستان کے نظام عدل میں موجود خرابیوں اور خامیوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ متاثرین کے وکلاء کے مطابق اس ملک میں بااثر افراد اپنے مفادات کے لیے آسانی سے جوڑ توڑ کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں بااثر افراد رشوت اور سرکاری سطح پر تعلقات کی وجہ سے انصاف سے بچ نکلتے ہیں۔

اس والد کا کہنا تھا کہ ابتدا میں ان کی شکایت اس وجہ سے درج نہیں کی گئی تھی کہ ملزمان کا تعلق بااثر سیاسی جماعت سے ہے۔ تاہم پولیس افسر بابر سعید نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ قبل ازیں پولیس نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ جنسی اسکینڈل نہیں بلکہ زمین کی ملکیت کا معاملہ ہے، جسے جنسی اسکینڈل کا رنگ دیا جا رہا ہے۔ اسی علاقے کے مبین غزنوی کے مطابق پولیس کا یہ دعویٰ مکمل طور پر ’’بے بنیاد‘‘ ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے پولیس اور خفیہ اہلکاروں پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے تاکہ از سرنو تفتیش کی جا سکے۔ وزیراعظم نواز شریف کا پیر کے روز کہنا تھا، ’’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس بھیانک جرم میں ملوث افراد کو مثالی سزائیں ملیں۔‘‘