1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پی ٹی آئی کے خلاف جنگ یا سیاسی طاقت کا مظاہرہ ؟

سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے والے پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بدھ کے روز اسلام آباد سے لاہور تک کی ریلی کا آغاز کر دیا ہے۔ ریلی کا مقصد مسلم لیگ نون کی طرف سے سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے۔

نواز شریف کو 28 جولائی کے روز پاکستان کی سپریم کورٹ نے نا اہل قرار دے دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد آج نواز شریف نے عوامی سطح پر ایک بڑی ریلی کی قیادت کا فیصلہ کیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ریلی کی ابتدا سے قبل تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہونے والے مسلم لیگ کے سربراہ  نواز شریف کو گلے لگایا۔

پاناما کیس، آغاز سے اختتام تک، کب کیا ہوا؟

سوشل میڈیا کے ایک صارف عبدالجلال نے لکھا،’’ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ حکومت حزب اختلاف کے خلاف ریلی نکال رہی ہے، شکریہ عمران خان۔‘‘ ایک اور صارف نے لکھا،’’ باہر نکلو ملک کی ترقی کے لیے، سی پیک منصوبےکی تکمیل کے لیے، توانائی بحران سے چھٹکارےکے لیے، باہر نکلو اپنے قائدکے لیے۔‘‘ تجزیہ کار مشرف زیدی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’پی ٹی آئی سن 2014 میں سرکاری مدد کے بغیر سڑکوں پر مسلم لیگ نون کی آج کی ریلی سے کہیں زیادہ افراد سڑکوں پا لانے میں کامیاب ہوئی تھی۔ میں امید کرتا ہوں کہ  مسلم لیگ نواز شریف سے سچ بولنا شروع کر دے گی۔‘‘

ریلی میں شریک نواز شریف کے حمایتی افراد اور پارٹی کارکنان نے ان  کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور نواز شریف کے حق میں نعرے بھی لگائے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق شدید گرمی اور حبس کے باوجود  سینکڑوں افراد  نواز شریف کے قافلے کے ساتھ سفر  کر ر ہے ہیں۔ ایک مقامی تاجر جمشید احمد خان کا کہنا تھا کہ گرم موسم اسے اپنے قائد کی حمایت کے لیے باہر نکلنے سے نہیں روک سکتا۔ صوابی سے آئے ہوئے دو نوجوان لڑکوں حامد علی اور باز محمد کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگی بھی نوازشریف کے لیے قربان کر سکتے ہیں۔ 

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف بھی ماضی میں لاہور سے اسلام آباد تک ریلی نکال چکی ہے۔ اس سیاسی جماعت کے کارکنان اور سیاسی رہنما الزام عائد کر رہے ہیں کہ اس ریلی میں سرکاری مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ نون نے ایسے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی صارفین شدید جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے حمایتی افراد،’’ نواز چور مچائے شور‘‘ ہیش ٹیگ استعمال کر کے اس ریلی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ ہیش ٹیگ ’’جی ٹی روڈ ریلی‘‘ کے ساتھ کئی افراد نواز شریف کے ساتھ اپنی حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایک مقامی پولیس افسر محمد رمضان کے مطابق سابق وزیر اعظم کے قافلے کے ساتھ لگ بھگ تیس ہزار افراد تھے، جب یہ قافلہ راولپنڈی کے لیے رواں دواں تھا۔ سابق وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید اور مسلم لیگ نون کے دیگر رہنما نواز شریف کی گاڑی میں نظر  آئے۔ نواز شریف کا موقف ہے کہ ان کی نااہلی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے سیاسی سفر کا اختتام ہو گیا ہے۔

 

DW.COM